موصل پر آئی ایس آئی ایس کا کنٹرول، ایمرجنسی لگانے کی درخواست

پانچ روز کی لڑائی کے بعد دولتِ اسلامیہ نے نینوا کے دارالحکومت موصل کا کنٹرول حاصل کر لیا

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنپانچ روز کی لڑائی کے بعد دولتِ اسلامیہ نے نینوا کے دارالحکومت موصل کا کنٹرول حاصل کر لیا

عراق کے شمالی شہر موصل پر شدت پسندوں کے قبضے کے بعد وزیر اعظم نے پارلیمنٹ سے درخواست کی ہے کہ وہاں ایمرجنسی کا نفاذ کیا جائے۔

پیر اور منگل کی درمیانی شب کو راکٹ لانچروں، سنائپر رائفلوں اور مشین گنوں سے لیس شدت پسندوں نے صوبائی سرکاری دفاتر پر قبضہ کر لیا۔

شدت پسندوں نے کئی پولیس سٹیشن تباہ کیے اور بعد میں ہوائی اڈے اور فوجی ہیڈ کوارٹر پر قبضہ کر لیا۔

بیروت میں بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق صوبہ نینوا پر آئی ایس آئی ایس یعنی دولت اسلامیہ فی عراق والشام کا کئی ماہ سے غیر رسمی کنٹرول تھا جس میں یہ تنظیم مقامی اہلکاروں سے بھتہ وصول کیا کرتی تھی۔

پانچ روز کی لڑائی کے بعد دولتِ اسلامیہ نے نینوا کے دارالحکومت موصل کا کنٹرول حاصل کر لیا۔ موصل کی آبادی 18 لاکھ ہے۔

پیر کو موصل کے گورنر عقیل النجفی نے ٹی وی پر عوام سے اپیل کی کہ وہ دولت اسلامیہ کا مقابلہ کریں: ’میں عوام سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ اپنے اپنے علاقوں کو ان اجنبیوں سے بچائیں اور کمیٹیاں قائم کریں جو علاقوں کی حفاظت کریں۔‘

تاہم اس اپیل کے کچھ دیر بعد ہی گورنر موصل سے اس وقت فرار ہو گئے جب دولت اسلامیہ نے صوبائی سرکاری دفاتر پر قبضہ کر لیا۔

منگل کو امریکی خبر رساں ایجنسی اے پی کو موصل کے شہریوں نے بتایا کہ عمارتوں پر کالے پرچم لہرا رہے ہیں اور دولت اسلامیہ اعلان کر رہی ہے کہ وہ موصل کو آزاد کرانے کے لیے آئے ہیں اور وہ صرف ان سے لڑیں گے جو ان کی مخالفت کرے گا۔

موصل میں وزارت داخلہ کے ایک اہلکار نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی سے بات کرتے ہوئے اس بات کا اعتراف کیا کہ پولیس کے اہلکار اور فوجی یونیفارم اتار کر فرار ہو گئے ہیں: ’موصل شہر ریاست کے کنٹرول سے باہر اور شدت پسندوں کے ہاتھوں میں ہے۔‘

نینوا کی اسمبلی کے سپیکر اور گورنر کے بھائی اسامہ النجفی کا کہنا ہے کہ انھوں نے امریکی سفارت کار سے مدد مانگی تھی۔

اسامہ نے عراقی حکومت اور کردستان ریجنل حکومت سے درخواست کی کہ وہ ’دہشت گردوں‘ سے لڑنے کے لیے کمک بھیجیں جنھوں نے فوجی ساز و سامان بشمول ہیلی کاپٹروں کے پر قبضہ کر لیا ہے۔

دوسری جانب بعقوبہ میں دو بم دھماکوں میں کم از کم 20 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ ان دھماکوں میں صوبہ دیالہ کے دارالحکومت میں ایک جنازے کو نشانہ بنایا گیا۔