دولتِ اسلامیہ: موصل پر قبضے کا ایک سال پورا ہونے پر جشن

سٹرکوں پر ہر طرف دولتِ اسلامیہ کے جھنڈے دیکھے جا سکتے ہیں

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنسٹرکوں پر ہر طرف دولتِ اسلامیہ کے جھنڈے دیکھے جا سکتے ہیں

دولتِ اسلامیہ کے جنگجو عراق کے دوسرے بڑے شہر موصل پر اپنے قبضے کے ایک سال پورے ہونے پر جشن منا رہے ہیں۔

شہر سے حال ہی میں بھیجی جانے والی تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ہر عمارت پر تنظیم کے جھنڈے لہرائے گئے ہیں۔

اطلات کے مطابق مقامی لوگوں کو بھی اپنے گھر اور عمارات سجانے پر مجبور کیا گیا ہے۔

موصل پر دولتِ اسلامیہ کے شدت پسندوں کے قبضے سے پوری دنیا حیران ہو گئی تھی اور اس سے تنظیم کی ملک کے دیگر علاقوں پر قبضہ کرنے کے لیے حوصلہ افزائی ہوئی تھی۔

گذشتہ دس ماہ سے جاری امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی فضائی بمباری کے باوجود علاقے پر دولتِ اسلامیہ کی گرفت کمزور نہیں ہوئی ہے اور وہ اپنے زیرِ قبضہ علاقوں میں بدستور اپنے خود ساختہ اسلامی نظام کا نفاذ کیے ہوئے ہے۔

السومریہ عراقی ٹی وی چینل نے موصل میں موجود ایک اہلکار کے حوالے سے خبر دی ہے کہ تنظیم شہر میں واقع ایک پر آسائش ہوٹل میں اپنی ’جیت‘ کے حوالےسے تقریب کا انعقاد بھی کر رہی ہے۔

مقامی لوگوں کو بھی اپنے گھر اور عمارات سجانے پر مجبور کیا گیا ہے

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنمقامی لوگوں کو بھی اپنے گھر اور عمارات سجانے پر مجبور کیا گیا ہے

واضح رہے کہ گذشتہ برس جولائی میں دولتِ اسلامیہ کے سربراہ ابوبکر البغدادی نے خلافت کے قیام کے اعلان کے چند روز بعد ہی موصل کی جامع مسجد میں اپنے خطبے میں دنیا بھر کے مسلمانوں کو تنظیم کے زیرِ قبضہ علاقوں میں ہجرت کرنے کو کہا تھا۔

مقامی ذرائع نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ دولتِ اسلامیہ کے شدت پسندوں کو حکومتی افواج کے حملے کے خدشے کے پیشِ نظر شہر کی گلیوں میں تربیت بھی کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔

تکریت پر سرکاری افواج کے قبضے کے بعد امید کی جارہی تھی کہ ان کا اگلا ہدف موصل ہو گا لیکن امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق گذشتہ ماہ رمادی پر دولتِ اسلامیہ کے قبضے کے بعد سرکاری افواج نے شہر دولتِ اسلامیہ سے آزاد کرانے کا منصوبہ سنہ 2016 تک موخر کر دیا ہے۔

یاد رہے کہ رمادی میں عراقی فوجی دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ہو نے کے باوجود بھاگ گئے تھے اور ماہرین کا کہنا ہے کہ موصل آپریشن کی کامیابی امریکہ کی جانب سے عراقی افواج کو دوبارہ تربیت دینے کی کوششوں کی کامیابی پر منحصر ہے۔