آکسفرڈ میں واحد صنف کی تعلیم ختم کرنے کے لیے ووٹنگ

 آکسفرڈ

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشناس ووٹ کے بعد آکسفرڈ میں واحد صنفی تعلیم ختم ہو جائے گی

جمعرات کی دوپہر کو آکسفرڈ یونیورسٹی میں ایک ایسی رائے شماری ہو رہی ہے جو علامتی طور پر اس سفر کا آخری قدم ہو گا جو 1879 میں شروع ہوا تھا۔

اس کے ساتھ ہی سینٹ بینیٹ ہال آکسفرڈ یونیورسٹی کا وہ آخری ادارہ بن جائے گا جو واحد صنف کے ادارے سے مخلوط تعلیم کا ادارہ بنا ہو۔ توقع ہے کہ اس میں طالبات کو داخلہ دینے کا رسمی طور پر اعلان کیا جائے گا۔

ایسا 136 سال بعد ہو رہا ہے جب خواتین کے کالجوں کے لیے یونیورسٹی کے دروازے پہلی مرتبہ کھلے تھے اور 95 سال بعد جب کسی خاتون کو پہلی مرتبہ یونیورسٹی کا رکن بنایا گیا ہو۔

1970 سے آہستہ آہستہ صرف مردوں کے لیے مخصوص کالج خواتین کو داخلے دینے شروع ہو گئے تھے۔ اور تقریباً 12 سال ہوئے ہیں جب خواتین کے لیے مخصوص کالجوں نے مردوں کے لیے دروازے کھولے ہوں۔

سینٹ بینیٹ کے ٹرسٹیز کا ووٹ اس سنگِ میل کے ایک ہفتے بعد آ رہا ہے جب پہلی خاتون لوئس رچرڈسن کا نام آکسفرڈ یونیورسٹی کے وائس چانسلر کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔

پروفیسر رچرڈسن یونیورسٹی کی 272ویں وائس چانسلر ہوں گی۔ 1230 میں ایلیا ڈی ڈینیز اس یونیورسٹی کے پہلے سربراہ مقرر ہوئے تھے۔ اس کے بعد آنے والے تمام 271 سربراہان مرد تھے۔

سینٹ بینیٹ آکسفرڈ کے ’پرائیویٹ پرمانینٹ ہالز‘ میں سے ایک ہے، جو چھوٹے مگر مخصوص ادارے ہوتے ہیں۔ اس کا تعلق کیتھولک بینیڈکٹین ریلیجیس آرڈر سے ہے لیکن اس میں تمام مذاہب اور کسی بھی مذہب سے نہ تعلق رکھنے والوں کو داخلے دیے جاتے ہیں۔

پروفیسر ویرنر ژیانرانڈ سینٹ بینیٹ ہال کے ماسٹر ہیں، وہ خواتین کو داخلہ دینے کے متعلق بڑے خوش ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ رکاوٹ اصولوں کی بجائے عملی وجوہات کی بنا پر تھی اور وہ تھی کہ طالب علموں کے رہنے کے لیے اضافی جگہ حاصل کی جائے۔

آکسفرڈ

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشن1938 میں آکسفرڈ یونین: خواتین کو مباحثوں میں حصہ لینے کی اجازت نہیں تھی وہ صرف گیلری سے انھیں دیکھ سکتی تھیں

اب ایک عمارت حاصل کر لی گئی ہے اور اس خزاں میں سینٹ بینیٹ پہلی مرتبہ طالبات کی درخواستیں قبول کرنا شروع کر دے گا۔

پروفیسر ویرنر کہتے ہیں کہ یہ بالکل عیاں ہے کہ ہال کو مردوں اور عورتوں دونوں کو داخلہ دینا ہے۔

’کچھ لوگ آکسفرڈ کو بطور عجائب گھر دیکھنا چاہتے ہیں، لیکن میں نہیں۔‘

پروفیسر ویرنر کہتے ہیں کہ اگر سب سے مضبوط درخواستیں خواتین کی طرف سے آئیں تو یہ ایسا کالج بنے گا جہاں خواتین زیادہ ہوں اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ تمام طلبہ خواتین ہی ہوں۔

آکسفرڈ یونیورسٹی خواتین سے زیادہ مردوں کو انڈر گریجویٹ اور گریجویٹ سطح پر داخلے دیے جاتے ہیں اور اس میں خواتین سے زیادہ مرد حضرات تدریسی اور تحقیقی عملے کا بھی حصہ ہیں۔

پروفیسر ویرنر

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنپروفیسر ویرنر چاہتے ہیں کہ سینٹ بینیٹ ہال جلد سے جلد خواتین انڈر گریجویٹس کو داخلہ دے

لیکن اس کے برعکس پورے برطانیہ کی یونیورسٹیوں میں خواتین کو زیادہ داخلے مل رہے ہیں۔

گذشتہ برس برطانوی یونیورسٹیوں میں داخلہ حاصل کرنے والوں میں خواتین کی تعداد مردوں کے مقابلے میں 57,800 زیادہ تھی۔ یہ خلیج بڑھتی جا رہی ہے جس کا مطلب ہے کہ لڑکیاں سکول کے امتحانوں میں لڑکوں سے زیادہ اچھی کارکردگی دکھا رہی ہیں۔

لیکن ہمیشہ سے ایسا نہیں تھا۔ 1990 تک ’جینڈر گیپ‘ میں صرف بات اس پر ہوتی تھی کہ خواتین مردوں کے قریب کیسے پہنچیں۔ اور صدیوں سے تدریسی شعبہ مردوں کی جاگیر تھا۔

لیکن 20 برس پہلے زیادہ خواتین یونیورسٹی جانا شروع ہو گئیں اور یہ فرق بڑھتا ہی جا رہا ہے۔

لیکن باوجود اس بڑھتے ہوئے رجحان اور آکسفرڈ جیسے ادارے کے سربراہی پروفیسر رچرڈسن جیسی خاتون کو دیے جانے کے، اب بھی بہت سی کم یونیورسٹیاں ہیں جن کی سربراہ خواتین ہوں۔

ٹائمز کی رینکنگ کے مطابق دنیا کی 200 اعلیٰ یونیورسٹیوں میں ہر سات میں سے چھ کے سربراہ مرد ہیں۔

سینٹ بینیٹ میں ووٹنگ سے آکسفرڈ میں واحد صنف کی تعلیم ختم ہو جائے گی۔

لیکن دوسری جگہوں پر جنس کی علیحدگی کا سوال رہے گا۔ امریکہ میں صرف خواتین کے لیے مخصوص ممتاز کالجوں کی روایت ہے۔ چاہے ہلری کلنٹن امریکہ کی پہلی خاتون صدر بننے کا ارادہ رکھتی ہوں لیکن وہ بھی صرف خواتین کے لیے مخصوص ویلزلی کالج کے خصوصی درجے کا دفاع کرتی ہیں جس میں انھوں نے خود بھی تعلیم حاصل کی تھی۔

لوئس رچرڈسن

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنلوئس رچرڈسن آکسفرڈ کی تاریخ کی پہلی خاتون وائس چانسلر بننے والی ہیں

کالج کا کہنا ہے کہ اس کا ’صرف خواتین کے لیے‘ درجہ کوئی رکاوٹ نہیں ہے بلکہ یہ اس کے طالب علموں کو با اختیار کرنے اور انھیں قیادت کے لیے تیار کرنے کا ایک ذریعہ ہے۔

ہلری کلنٹن کہتی ہیں کہ وہاں پڑھتے ہوئے کبھی کبھار وہ مردوں کی صحبت نہ ہونے پر شکایت کرتی تھیں لیکن اب پیچھے مڑ کر دیکھنے سے پتہ چلتا ہے کہ وہ نوجوان عورتوں کے لیے ایک موقع تھا کہ وہ لڑکوں کے لیے ’ہر روز تیار ہونے‘ سے بچ سکیں۔

’وہ خواتین کے لیے ایک موقع تھا کہ سب کچھ کریں۔‘

پروفیسر ویرنر جو جرمنی، آئرلینڈ اور سویڈن اور برطانیہ کی یونیورسٹیوں کا تجربہ رکھتے ہیں، کہتے ہیں کہ ’نوجوان لڑکیوں پر بہت دباؤ ہوتا ہے کہ سب لوگوں کے لیے سب کچھ بن کے دکھائیں۔‘

آکسفرڈ

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشن1930 کی دہائی میں آکسفرڈ۔ 1920 تک خواتین یونیورسٹی کی پوری رکن نہیں بن سکتی تھیں

’ان کو علمی طور پر سب سے آگے ہونا چاہیے، سماجی طور پر اوپر، جسمانی طور پر اوپر، ان سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ معاشرے کی ہر حقیقی اور محسوس کی جانے والی ضرورت کو پورا کریں۔‘

برطانیہ کے اعلیٰ تعلیم کے اداروں میں واحد صنفی تعلیم کا نظریہ آہستہ آہستہ ختم ہوتا جا رہا ہے، لیکن سکولوں کی حد تک ایسا نہیں ہے۔ امتحانات کے نتائج کے حوالے سے واحد صنفی سکولوں میں سے بہت سے سب سے اوپر کی فہرست میں نظر آئیں گے۔

لیکن ایسے تجربات بھی کیے جا رہے ہیں کہ واحد صنف اور مخلوط تعلیم کو اکٹھا کیا جا سکے۔

کئی پرائیویٹ سکول لڑکوں اور لڑکیوں کو شروع میں اکٹھا رکھتے ہیں، جب وہ بچے مڈل سیکنڈری میں آتے ہیں تو انھیں علیحدہ علیحدہ پڑھایا جاتا ہے لیکن سکستھ فارم میں انھیں پھر دوبارہ اکٹھا کر دیا جاتا ہے۔ اور کہیں کہیں تو کچھ مضامین اکٹھے پڑھائے جاتے ہیں اور کچھ علیحدہ علیحدہ۔