آکسفرڈ کے طلبا امتحانی لباس کے حامی

برطانیہ کی آکسفرڈ یونیورسٹی کے طلبا و طالبات کی اکثریت نے امتحانات کے دوران مخصوص ملبوسات پہننے کی روایت جاری رکھنے کے حق میں ووٹ دیا ہے۔
رواج یہ ہے کہ امتحانات کے دوران طلبا اور ممتحن دونوں کو ایک خاص لباس پہنا پڑتا ہے جسے ’سب فسک‘ کہتے ہیں۔ یہ لفظ لاطینی زبان کا ہے جس کے معنی گہرے بھورے رنگ کے ہیں۔
آکسفرڈ میں امتحانات کے دوران ممتحنوں اور طلبا کے لیے گاؤن،گہرے رنگ کا سوٹ، کالے جوتے، سفید قمیض یا بلاؤز، بو ٹائی، لمبی ٹائی یا رِبن پہننا لازمی ہے۔
اس سلسلے میں یونیورسٹی کے طلبا کی یونین نے ان اصولوں کے بارے میں آن لائن ریفرنڈم کرانے کا فیصلہ کیا جس کے نتائج کے مطابق کل ووٹوں میں سے 76 فیصد کے قریب یعنی 6242 طلبا نے یہ رواج جاری رکھنے کے حق میں ووٹ دیا۔
یونین کے مطابق اس رواج کی مخالفت میں 2040 ووٹ آئے جو کل ووٹوں کا 24 فیصد تھے۔
خیال رہے کہ سنہ 2006 میں بھی ایسا ہی ایک ریفرنڈم ہوا تھا جس میں طلبا نے ’سب فسک‘ پہننے کے حق میں ووٹ دیا تھا۔

یونین کے نائب صدر جیمز بلیتھی کا کہنا ہے کہ انھوں نے ووٹنگ کا فیصلہ اس لیے کیا کہ ممتحنوں کا مطالبہ تھا کہ انھیں ’سب فسک‘ نہ پہننے کی اجازت ملنی چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ پالیسی کو صرف اسی صورت میں تبدیل ہونا چاہیے اگر اس کا اطلاق طلبا پر بھی ہو۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس ریفرینڈم کے دوران ’سب فسک‘ کی حمایت کرنے والے تاریخ کے ایک طالب علم ہیریسن ایڈمنڈز کا کہنا تھا کہ ’سب فسک کے لیے آپ کا پس منظر، جنس، معاشرے میں آپ کی حیثیت، نسل کوئی معنی نہیں رکھتی۔ اس کے لیے سب برابر ہیں۔ یہ آکسفرڈ یونیورسٹی کی روایت ہے اور طلبا میں مقبول بھی ہے۔ اس سے ہماری یونیورسٹی کی قدر و قیمت بڑھتی ہے۔‘
تاہم زاو کوہن جو فلسفہ، سیاست اور معاشیات پڑھ رہے ہیں ’سب فسک‘ کے خلاف مہم چلا رہے تھے۔
انھوں نے کہا ’لوگ سب فسک کو دیکھ کر اسے آکسفرڈ میں بولنگڈن کلب سے جڑے اونچے طبقے کے تصور سے نتھی کر دیتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں یہاں پہنچنا ممکن نہیں اور اس کی اپنی علیحدہ حیثیت ہے۔ اور بہت سے قابل طلبا جن کی عمر 16 یا 17 سال ہوتی ہے، اس روایت کی وجہ سے کہہ دیتے ہیں کہ آکسفرڈ یونیورسٹی ان کے لیے نہیں ہے۔‘







