مصنوعی جزائر کی تعمیر پر امریکہ کی چین کو تنبیہ

،تصویر کا ذریعہReuters
امریکہ نے چین کو خبردار کیا ہے کہ وہ جنوبی بحیرۂ چین کے پانیوں میں مصنوعی جزائر کی تعمیر بند کر دے۔
امریکی وزیرِ دفاع ایش کارٹر نے کہا ہے کہ چین کا متنازع علاقے میں اپنی حددو بڑھانے کا منصوبہ سکیورٹی کے بارے میں علاقائی اجماع سے متصادم ہے۔
<link type="page"><caption> چین متنازع جنوبی بحیرۂ چین میں ریتیلی چٹانوں پر مصنوعی جزائر تیار کر رہا ہے۔</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/regional/2015/04/150401_china_great_wall_sand_sea_mb" platform="highweb"/></link>
انھوں نے یہ بات ہوائی میں ایشیا اور بحرالکاہل کے ممالک کے 11 روزہ دورے کے آغاز سے قبل کہی۔
اپنے بیان میں ایش کارٹر نے کہا کہ ’ہم تمام تنازعات کا فوری اور دیرپا حل چاہتے ہیں اور ہماری خواہش ہے کہ کوئی بھی دعویدار زمین حاصل کرنے کا عمل روک دے۔ ہم اس علاقے میں مزید عسکری سرگرمیوں کے بھی مخالف ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’جنوبی بحیرۂ چین میں چین کے اقدامات نہ صرف ایشیا اور بحرالکاہل کے علاقے کی سکیورٹی سے متعلق عالمی معمولات سے متصادم ہیں بلکہ وہ خطے میں تنازعات کے بارے میں غیر جارحانہ رویہ رکھنے کے بارے میں علاقائی اجماع کے بھی خلاف ہیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایش کارٹر کا یہ بھی کہنا تھا کہ امریکہ آنے والی دہائیوں میں بھی اس خطے میں مرکزی فوجی طاقت رہنا چاہتا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’چین کے اقدامات خطے کے دیگر ممالک کو نئی شکل میں اکٹھا کر رہے ہیں اور ان کا یہ مطالبہ بڑھتا جا رہا ہے کہ امریکہ ایشیا اور بحرالکاہل کے اس خطے میں اپنا کردار ادا کرے اور ہم ان کی یہ توقع پوری کریں گے۔ ہم آنے والی کئی دہائیوں تک اس خطے میں مرکزی فوجی طاقت رہیں گے۔‘

،تصویر کا ذریعہREUTERS
ایش کارٹر دوسرے اعلیٰ امریکی عہدیدار ہیں جنھوں نے سپریٹلی جزائر کے بارے میں تشویش ظاہر کی ہے۔
اس سے قبل امریکی وزیرِ خارجہ نے بھی چین کے دورے کے موقعے پر کہا تھاکہ چین جس سمت و رفتار سے جنوبی بحیرۂ چین کے علاقوں پر اپنا دعویٰ پیش کر رہا ہے اس سے انھیں تشویش ہے۔
چین کی جانب سے مصنوعی جزائر کی تعمیر کے خلاف امریکی وزیرِ دفاع کا تازہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب گذشتہ ہفتے ہی چینی بحریہ نے سپریٹلی جزائر کے اوپر پرواز کرنے والے ایک امریکی جاسوس طیارے کو وہاں سے نکل جانے کو کہا تھا۔
امریکی چینل سی این این کے مطابق جدید ترین P8-A Poseidon طیارہ اس وقت 15 ہزار فٹ کی بلندی پر تھا اور یہ اس کی کم ترین بلندی تھی۔
اس طیارے کی جانب سے بنائی گئی ویڈیو فوٹیج بھی سی این این پر نشر کی گئی جس میں نئے جزائر کی تعمیر کے حوالے سے سرگرمیوں اور قریب تعینات چینی بحریہ کے بحری جہازوں کو دیکھا جا سکتا ہے۔
چینی وزاتِ خارجہ نے اس سلسلے میں کہا تھا کہ وہ سپریٹلی جزائر پر پیش آنے والے واقعے کے بارے میں آگاہ ہے اور ’یہ چین کا حق ہے کہ وہ ملک کی خودمختاری اور سمندر میں حادثات کی روک تھام کے لیے متعلقہ فضائی حدود اور پانیوں کی نگرانی کرے۔‘

،تصویر کا ذریعہAFP
اس سے قبل چین نے فلپائن کے ایک فوجی ہوائی جہاز کو بھی جنوبی بحیرۂ چین میں واقع جزائر سے نکلنے کا حکم دیا تھا۔
سپریٹلی جزائر پر ویت نام، فلپائن، اور تائیوان سمیت کئی ممالک اپنا دعویٰ کرتے ہیں۔
امریکہ کا کہنا ہے کہ چین اس ان جزائر کے اطراف میں مونگوں کی زندہ چٹانوں پر ریت ڈال کر مصنوعی زمین تیار کر رہا ہے۔ ان میں سے بعض جگہیں پانی میں ڈوبی ہوئی ہیں جن کو کنکریٹ سے ہموار کیا جا رہا ہے۔
اس طرح چین نے سمندر میں تقریباً چار مربع کلومیٹر کا مصنوعی رقبہ تیار کر لیا ہے۔
خیال رہے کہ چین جنوبی بحیرۂ چین میں جس علاقے میں اپنی عسکری سرگرمیوں میں اضافہ کر رہا ہے اس سمندری علاقے میں سالانہ پانچ کھرب ڈالر مالیت کی مصنوعات کی تجارت ہوتی ہیں۔
سنہ 2013 میں چین نے شمال مشرقی بحیرۂ چین میں اپنے ’فضائی دفاعی علاقے‘ کی حد بندی کی تھی جس میں وہ جزیرہ بھی شامل ہے جس پر جاپان بھی اپنی ملکیت کا دعویٰ کرتا ہے۔
چین کے وزارتِ دفاع کے مطابق جو جہاز بھی اس فضائی حدود میں داخل ہوگا اسے قوانین کی پابندی کرنی ہو گی یا چین کی طرف سے’ایمرجنسی دفاعی اقدامات‘ کا سامنا کرنا ہو گا۔







