اسرائیل میں فلسطینی مسافروں کے لیے الگ بسوں کا فیصلہ معطل

روزانہ ہزاروں فلسطینی کارکن قانونی طریقے سے اسرائیل میں کام کرنے آتے ہیں

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنروزانہ ہزاروں فلسطینی کارکن قانونی طریقے سے اسرائیل میں کام کرنے آتے ہیں

اسرائیل میں غرب اردن جانے یہودی آباد کاروں اور فلسطینی شہریوں کے لیے بسیں الگ الگ کرنے کے قواعد کو عمل درآمد شروع ہونے کے چند گھنٹوں بعد ہی معطل کر دیا گیا۔

اسرائیلی وزارتِ دفاع نے بدھ کو مسافروں کو الگ کرنے پر تین ماہ کے لیے تجرباتی طور پر عمل درآمد شروع کر دیا تھا تاہم چند گھنٹوں بعد ہی وزیراعظم بن یامن نتن یاہو نے اس کو’ناقابلِ قبول‘ قرار دیتے ہوئے معطل کر دیا۔

یہودی آبادکاروں کی نمائندگی کرنے والے گروہوں نے سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر مسافروں کو الگ کرنے کی مہم چلا رہے ہیں تاہم حقوق انسانی کی تنظیمیں ان اقدامات کو شرمناک اورنسل پرست کہتے ہیں۔

اسرائیلی وزارتِ دفاع نے قواعد و ضوابط پر بدھ سے تین ماہ کے لیے عمل درآمد شروع کیا تھا جس کا اطلاق ان ہزاروں فلطسینی کارکنوں پر ہونا تھا جو قانونی طریقے سے ہر روز کئی چیک پوسٹوں سے گزر کر اسرائیل میں کام کرنے آتے ہیں۔

یہ فلسطینی شہری واپس غرب اردن اپنے گھروں میں جانے کے لیے ان بسوں کو استعمال کرنے کے پابند تھے جو اسی چیک پوائنٹ سے گزرتی تھیں جس سے وہ اسرائیل میں داخل ہوئے تھے اور ان کو ان بسوں پر سفر کرنے کی اجازت نہیں تھی جو چیک پوسٹوں سے نہیں گزرتیں۔

بین الاقوامی قوانین کے تحت یہودی بستیاں غیر قانونی ہیں

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنبین الاقوامی قوانین کے تحت یہودی بستیاں غیر قانونی ہیں

یروشلم میں بی بی سی کے نامہ نگار کیون کنولی کے مطابق ان قدامات کے نتیجے میں مذہبی اعتبار سے یہودی اور فلسطینی مسافروں کے لیے بسیں الگ الگ کر دی گئی تھیں۔

اسرائیل میں حزب مخالف زایونسٹ یونین کے اسحاق ہرزوگ نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ فیس بک پر لکھا ہے کہ یہ اقدام غیر ضروری شرمندگی اور ملک کی ساکھ پر دھبے کا باعث بنا ہے اور اس کا سکیورٹی سے کچھ لینا دینا نہیں ہے۔

وزیراعظم ہاؤس کے حکام نے بی بی سی کو بتایا کہ جب نئے قواعد و ضوابط کا اطلاق ہو گیا تو وزیراعظم نے وزیرِ دفاع موشے یالون کو آگاہ کیا کہ یہ ناقابل قبول ہے اور اس کو معطل کیا جائے۔

نامہ نگار کے مطابق بظاہر وزیراعظم نے وزارتِ دفاع کے فیصلے کو اس وجہ سے مسترد کیا کیونکہ انھیں لگا کہ اس سے اسرائیل کی عالمی سطح پر ساکھ متاثر ہو سکتی ہے۔

غرب اردن میں یہودی بستیوں کی تعمیر کے خلاف آئے روز احتجاجی مظاہرے ہوتے ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنغرب اردن میں یہودی بستیوں کی تعمیر کے خلاف آئے روز احتجاجی مظاہرے ہوتے ہیں

اپنے گھروں کو واپس جانے والے کئی یہودی آباد کاروں کا کہنا ہے کہ بسوں میں فلسطینی مسافروں کی موجودگی سے انھیں سکیورٹی خدشات ہیں۔

دوسری جانب بدھ کو اسرائیلی پولیس کے مطابق انھوں نے ایک فلسطینی شخص کو اس وقت گولی مار کر ہلاک کر دیا جب ایک شخص نے اپنی گاڑی کا رخ اچانک پولیس اہلکاروں کی جانب موڑ دیا۔اس واقعے میں دو پولیس اہلکار زخمی بھی ہو گئے۔

اس واقعے کے بعد فلسطینی شہریوں نے احتجاج کیا اور پولیس اہلکاروں پر پتھراؤ کیا۔ ایک عینی شاہد کے مطابق فلسطینی ڈرائیور نے پیدل چلنے والے افراد کو بچانے کے لیے گاڑی کا رخ بدلا تھا۔

1967 کے بعد سے غرب اردن اور مشرقی یروشلم پر اسرائیلی قبضے کے بعد یہاں تعمیر کی جانے والی بستیوں میں پانچ لاکھ یہودی آباد کار رہائش پذیر ہیں۔

بین الاقوامی قوانین کے تحت یہودی بستیاں غیر قانونی ہیں تاہم اسرائیل اس سے اتفاق نہیں کرتا۔