آسٹریلیا کےمشرقی ساحلی علاقوں میں طوفان، بندرگاہ پر آمدورفت منقطع

آسٹریلیا کے محکمۂ موسمیات نے شدید بارش اور تیز ہواؤں کے بارے میں خبردار کیا ہے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنآسٹریلیا کے محکمۂ موسمیات نے شدید بارش اور تیز ہواؤں کے بارے میں خبردار کیا ہے

آسٹریلیا کے صوبے نیو ساؤتھ ویلز میں شدید طوفان کی وجہ سے مکان اور سڑکیں بہہ گئی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ تقریباً 100 افراد کو سیلابی ریلے سے نکال کر محفوظ مقام پر پہنچا دیا گیا ہے۔

منگل کو سڈنی کے شمال میں ڈنگوگ میں تین معمر افراد مردہ پائے گئے۔ خیال ہے کہ طوفان اور سیلاب میں وہاں بہت سے گھر بہہ گئے ہیں۔

آج بدھ کو بھی صوبے میں تقریباً دو لاکھ گھر بجلی سے محروم ہیں۔

آسٹریلیا کے محکمۂ موسمیات نے شدید بارش اور تیز ہواؤں کے بارے میں خبردار کیا ہے لیکن ساتھ میں یہ بھی کہا کہ حالات آج شام سے بہتر ہو جائیں گے۔

موسمیات کے ادارے نے کہا ہے کہ ساحلی علاقوں میں 100 کلومیٹر سے زیادہ کی رفتار سے طوفانی جھکڑ چل سکتے ہیں اور طوفانِ برق و باراں سے سڈنی کے بعض علاقوں میں سیلاب آ سکتے ہیں۔

ڈنگوگ طوفان اور بارش میں سب سے زیادہ متاثرہ علاقہ ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنڈنگوگ طوفان اور بارش میں سب سے زیادہ متاثرہ علاقہ ہے

دوسری جانب ایک سخت بیمار بچی کو ہسپتال پہنچایا گیا ہے جبکہ پولیس کا کہنا ہے میٹ لینڈ میں ایک کار کے سیلاب میں بہہ جانے کے سبب دو معمر خواتین لا پتہ ہیں۔

طوفان کی وجہ سے سڈنی کے شمال میں واقع نیوکیسل میں کوئلے کی اہم بندرگاہ میں جہازوں کی آمدو رفت منقطع ہے۔

سٹیٹ ایمرجنسی سروس (ایس ای ایس) کا کہنا ہے کہ انھیں امداد کے لیے تقریباً نو ہزار کالز موصول ہوئی ہیں اور انھوں نے 93 لوگوں کو سیلاب سے بچایا ہے۔

آسٹریلوی میڈیا اے بی سی نیوز کے مطابق نیوساؤتھ ویلز کے صوبائی وزیر اعظم مائک بیئرڈ نے بدھ کو کہا: ’تیز ہوائیں، بارش اور سیلاب جاری ہیں اور ابھی بھی حالات خطرناک ہیں لیکن اچھی بات یہ ہے کہ اس کی شدت میں کمی آئی ہے۔ ہمیں ابھی آنے والے 48 گھنٹوں میں بہت کچھ کرنا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ طوفان سے شدید طور سے متاثر بعض علاقوں کو آفت زدہ علاقہ قرار دیا جائے گا۔

طوفان سے شدید طور سے متاثر بعض علاقوں کو آفت زدہ علاقہ قرار دیا جائے گا

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنطوفان سے شدید طور سے متاثر بعض علاقوں کو آفت زدہ علاقہ قرار دیا جائے گا

انھوں نے کہا: ’اس طوفان کی شدت کا اندازہ آپ کو اس بات سے ہو گا کہ ڈنگوگ میں گذشتہ 24 گھنٹوں میں جتنی بارش ہوئی اتنی پچھلی صدی کے دوران کسی 24 گھنٹوں میں نہیں ہوئی۔‘

اس سے قبل انھوں نے طوفان کی شدت میں لوگوں سے کہا تھا کہ وہ سفر کرنے سے پرہیز کریں۔

مقامی میڈیا کا کہنا ہے کہ گذشتہ 36 گھنٹوں کے دوران پہلی بار ایس ای ایس کے ہیلی کاپٹروں نے پرواز کی ہے اور اب ان کا استعمال ڈنگوگ جیسے سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں کے لیے امدادی سامان لے جانے کے لیے کیا جائے گا۔

مقامی میڈیا کے مطابق سڈنی میں ابھی بھی بعض ریلوے لائنیں بند ہیں تاہم بعض جگہوں پر فیری سروس بحال ہو گئی ہے۔