آسٹریلیا میں جنگل کی آگ، صورت حال تشویش ناک

آگ کے شعلے تیز ہواؤں اور شدید درجہ حرارت سے اور زیادہ بھڑک رہے ہیں
،تصویر کا کیپشنآگ کے شعلے تیز ہواؤں اور شدید درجہ حرارت سے اور زیادہ بھڑک رہے ہیں

جنوبی آسٹریلیا میں جھاڑیوں میں لگنے والی آگ سے کم از کم 30 گھر جل کر خاک ہو گئے ہیں جبکہ آگ بجھانے والا عملہ آگ پر قابو پانے کی مسلسل کوششیں کر رہا ہے۔

ایڈیلیڈ کے ارد گرد پہاڑوں پر لگنے والی آگ کئی دنوں سے بھڑک رہی ہے اور آگ بجھانے والے عملے کے آٹھ سو سے زیادہ ارکان اس آگ پر قابو پانے کی کوشش میں ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ سنہ 1983 کے بعد سے یہ جنگل میں آگ لگنے کا بدترین واقع ہے۔ سنہ 1983 میں لگنے والی آگ جسے ’ایش ونسڈے‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے اس میں 75 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

آگ کے بھڑکتے ہوئے شعلوں پر تیز ہواؤں اور شدید گرمی کی وجہ سے قابو پانے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ درجہ حرارت میں کمی سے ان پر قابو پانے میں مدد مل سکتی ہے۔

اطلاعات کے مطابق کم از کم 30 گھر آگ میں تباہ ہو چکے ہیں

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشناطلاعات کے مطابق کم از کم 30 گھر آگ میں تباہ ہو چکے ہیں

لیکن جنوبی آسٹریلیا کے وزیر اعظم جے ویدرال کا کہنا ہے کہ صورت حال اب بھی سنگین ہے۔

انھوں نے کہا کہ وہ ابھی اس ہنگامی صورت حال سے نکلے نہیں ہیں۔

انھوں نے مزید کہا کہ گھروں کو خطرہ ہے اور اس آگ کے راستے میں لوگ آ رہے ہیں جو کہ ایک بڑی سنگین صورت حال ہے۔

انھوں نے کہا کہ 12 گھر ایڈیلڈ کے پہاڑوں میں تباہ ہو گئے ہیں جب کہ مزید 20 کے بارے میں اطلاعات ہیں کہ وہ بھی آگ کا شکار ہو گئے ہیں۔

آگ کی وجہ سے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی تلقین کی جا رہے ہی

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنآگ کی وجہ سے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی تلقین کی جا رہے ہی

22 افراد جن میں زیادہ تر آگ بجھانے والے عملے کے ارکان ہیں اس آگ کی وجہ سے زخمی ہوئے ہیں۔

اس آگ کی وجہ سے 27200 ایکٹر کا رقبہ متاثر ہوا ہے۔

لوگوں سے کہا جا رہا ہے کہ وہ کسی قسم کا کوئی خطرہ مول نہ لیں اور اپنے گھروں کو چھوڑ کر محفوظ جگہوں پر منتقل ہو جائیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP

جنوبی آسٹریلیا کے آگ بجھانے کے عملے کے سربراہ گریگ نیٹلیٹان نے کہا کہ اس وقت ایڈیلیڈ ہلز کے رہائشی کو آگ سے خطرہ لاحق ہے اور اتنی بدترین آگ اس علاقے میں سنہ 1983 کے بعد سے نہیں دیکھی گئی۔

سنہ 1983 میں لگنے والی آگ سے 75 افراد ہلاک ہو گئے تھے اور اس سے وکٹوریا اور جنوبی آسٹریلیا کے وسیع علاقے متاثر ہوئے تھے۔

،تصویر کا ذریعہAFP

آسٹریلیا میں خشک جھاڑیوں میں ہر سال آگ بھڑک اٹھتی ہے اور ماہرین ماحولیات کا خیال ہے کہ آگ لگنے کے اس طرح کے واقعات بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کی وجہ سے کثرت سے پیش آنے لگے ہیں۔

سنہ 1983 کے بعد سے اس علاقے میں لگنے والی یہ بدترین آگ ہے

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنسنہ 1983 کے بعد سے اس علاقے میں لگنے والی یہ بدترین آگ ہے

آسٹریلیا کے محکمۂ موسمیات کا کہنا ہے گزشتہ سال ملک کا گرم ترین سال تھا۔

آگ کی وجہ سے ایک وسیع علاقے پر درخت اور نباتات متاثر ہوئے ہیں

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنآگ کی وجہ سے ایک وسیع علاقے پر درخت اور نباتات متاثر ہوئے ہیں

سنہ 2009 میں ’بلیک سیٹرڈے‘ کی جنگل کی آگ میں 173 افراد ہلاک ہو گئے تھے اور 2000 سے زیادہ گھر وکٹوریا کے علاقے میں تباہ ہو گئے تھے۔