جیکب زوما تارکینِ وطن کے خلاف جاری تشدد کے خاتمے کے لیے پرعزم

غیر ملکیوں کے خلاف دو ہفتوں سے جاری تششد میں کم از کم چھ افراد ہلاک ہو گئے ہیں

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنغیر ملکیوں کے خلاف دو ہفتوں سے جاری تششد میں کم از کم چھ افراد ہلاک ہو گئے ہیں

جنوبی افریقہ کے صدر جیکب زوما نے کہا ہے کہ غیر ملکیوں کے خلاف تشدد جنوبی افریقہ کی اقدار کے منافی ہے اور اسے یقینی طور پر ختم کیا جائے گا۔

یہ باتیں انھوں نے ڈربن میں غیر ملکیوں کے خلاف گذشتہ دو ہفتوں سے جاری تشدد کے واقعات کے بعد ایک پناہ گزین کیمپ کے دورے کے بعد کہی ہیں۔

تاہم وہاں موجود عوامی ہجوم میں بعض نے صدر پرسست روی کا مظاہرہ کرنے کا الزام لگاتے ہوئے طنزیہ فقرے ادا کیے۔

اطلاعات کے مطابق ان کے اعلان کے بعد فساد زدہ علاقوں میں مزید فورسز تعینات کی گئی ہیں جبکہ اتوار کو تشدد پر قابو پانے کے لیے حکومت کی جانب سے مزید اقدامات کے اعلان کیے جا سکتے ہیں۔

خیال رہے کہ ڈربن میں غیرملکیوں کے خلاف حالیہ دنوں میں ہونے والی پرتشدد کارروائیوں کے نتیجے میں کم از کم چھ افراد ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ تشدد کی لہر دوسرے علاقوں تک بھی پھیل رہی ہے۔

سنہ 1994 میں سفید فام اقلیت کی حکومت ختم ہونے کے بعد سے افریقہ کے دوسرے ممالک اور ایشیا سے بڑی تعداد میں تارکین وطن جنوبی افریقہ منتقل ہوئے تھے۔

جنوبی افریقہ کے صدر جیکب زوما نے تشدد کے خاتمے کا عہد کیا ہے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنجنوبی افریقہ کے صدر جیکب زوما نے تشدد کے خاتمے کا عہد کیا ہے

بہت سے جنوبی افریقہ کے باشندے غیرملکیوں پر ان کی ملازمت چھیننے کا الزام لگاتے ہیں کیونکہ ان کے ملک میں بے روزگاری کی شرح 24 فی صد ہے۔

صدر زوما نے اپنے ایک بیان میں کہا: ’ہم جن چیزوں میں یقین رکھتے ہیں یہ حملے ان کے منافی ہیں۔ جنوبی افریقہ کی اکثریت امن اور براعظم کے اپنے دوسرے بھائی بہنوں کے ساتھ اچھے روابط کو عزیز رکھتی ہے۔‘

صدر زوما نے اپنا انڈونیشیا کا دورہ منسوخ کر دیا اور انھوں نے ایک پناہ گزین کیمپ کا دورہ کیا۔ انھوں نے ٹی وی پر اپنے خطاب کے دوران کہا: ’ہم یقینی طور پر تشدد کو ختم کریں گے۔‘

تارکینِ وطن جو اپنے ملکوں کو واپس جانے کی تیاری کر رہے ہیں سے خطاب کرتے ہوئے صدر جیکب زوما نے کہا کہ جو اپنے گھر جانا چاہتے ہیں تشدد کے خاتمے کے بعد ان کی جنوبی افریقہ واپسی پر انھیں خوش آمدید کہا جائے گا۔

صدر زوما کا کہنا تھا کہ ان کے ملک میں چند لوگ یہ پریشانی پیدا کررہے ہیں۔

جنوبی افریقی خطے میں بی بی سی کی نامہ نگار کیرن ایلن کا کہنا ہے کہ بہت سے لوگوں نے صدر جیکب زوما کا مذاق اڑایا اور کہا کہ وہ جنوبی افریقہ کو خیرباد کہنا چاہتے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق گذشتہ دو ہفتوں سے جاری غیر ملکیوں کے خلاف تشدد کے ضمن میں پولیس نے تقریبا ڈیڑھ سو افراد کو گرفتار کیا ہے۔

کئی ہزار غیرملکی اپنا گھر بار چھوڑ کر پناہ گزین کیمپوں میں ہیں جبکہ پڑوسی ممالک زمبابوے، ملاوی اور موزمبیق کی حکومتوں نے اپنے شہریوں کو وہاں سے نکالنے کا اعلان کیا ہے۔

غیر ملکیوں کے خلاف تشدد ڈربن کے بعد دوسرے علاقوں میں بھی پھیل رہا ہے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنغیر ملکیوں کے خلاف تشدد ڈربن کے بعد دوسرے علاقوں میں بھی پھیل رہا ہے

سنیچر کو زمبابوے کے صدر رابرٹ موگابے نے افریقی یونین سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا: ’اب ہم اپنے غم و غصے کا اظہار کرتے کیونکہ ڈربن میں جو ہوا اس سے ہمیں نفرت ہے۔‘

سنیچر کو جوہانسبرگ کے مختلف علاقوں میں لوگوں نے متعدد دکانوں پر حملہ کیا۔

پولیس نے شہر کے شمالی علاقے ایلکزینڈرا میں فسادیوں کو منتشر کرنے کے لیے ربر کی گولیاں چلائیں اور 30 سے زیاد افراد کو گرفتار کیا۔

زولو کنگ گڈول زویلیتھینی پر حملے کے لیے مشتعل کرنے کا الزام ہے کیونکہ انھوں نے کہا کہا تھا کہ غیرملکیوں کو ’اپنے ملک چلے جانا چاہیے۔‘ لیکن ان کا کہنا ہے کہ ان کے بیان کو توڑ مروڑ کے پیش کیا ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جنوبی افریقہ میں تقریبا 20 لاکھ افراد رہتے ہیں جو کہ ملک کی آبادی کا چار فی صد ہیں۔ لیکن بعض اعداد و شمار میں یہ تعداد 50 لاکھ بتائی جاتی ہے۔