جنوبی افریقہ کی پارلیمان میں ہنگامہ آرائی

جن ارکان کو ایوان سے نکالا گیا ان میں حزب مخالف اكانومك فریڈم فائٹرز پارٹی کے سربراہ جولیس مالیما بھی شامل تھے

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنجن ارکان کو ایوان سے نکالا گیا ان میں حزب مخالف اكانومك فریڈم فائٹرز پارٹی کے سربراہ جولیس مالیما بھی شامل تھے

جنوبی افریقہ کی پارلیمنٹ میں صدر جیکب ذوما کے قوم سے سالانہ خطاب کے دوران حزبِ مخالف کے ارکان نے اس قدر ہنگامہ آرائی کی کہ پولیس بلا کر انھیں ایوان سے نکالنا پڑا۔

صدر جیکب ذوما پر سرکاری فنڈز سے اپنے ذاتی رہائش کو بہتر بنانے کا الزام ہے۔

صدر کی تقریر کے دوران حزب مخالف اكانومك فریڈم فائٹرز پارٹی کے ارکان نے بارہا انھیں ٹوکا اور ان سے قومی خزانے کی رقم کی واپسی کا مطالبہ کیا۔

بی بی سی کے نامہ نگار اینڈریو ہارڈنگ کا کہنا ہے کہ اپوزیشن کے ارکان کا الزام ہے کہ صدر نے انہیں دھمکانے کے لیے طاقت کا استعمال کیا لیکن صدر ذوما نے ان الزامات سے انکار کیا ہے۔

صدر ذوما کی پارٹی افریقن نیشنل کانگریس ملک میں کافی مقبول ہے۔ ذوما گذشتہ سال ہونے والے انتخابات میں بھاری اکثریت سے دوبارہ صدر منتخب ہوئے تھے۔

ملک میں حزبِ مخالف کی سب سے بڑی جماعت ڈیموکریٹک الائنس نے اس واقعے پر احتجاجا ایوان سے واک آؤٹ کیا۔

صدر کی تقریر کے دوران حزب مخالف اكانومك فریڈم فائٹرز پارٹی کے ارکان نے بارہا انھیں ٹوکا

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنصدر کی تقریر کے دوران حزب مخالف اكانومك فریڈم فائٹرز پارٹی کے ارکان نے بارہا انھیں ٹوکا

ڈیموکریٹک الائنس کے پارلیمانی لیڈر مموسی میانے کا کہنا تھا ’آپ پارلیمان میں پولسی نہیں بلا سکتے۔‘

جن ارکان کو ایوان سے نکالا گیا ان میں حزب مخالف اكانومك فریڈم فائٹرز پارٹی کے سربراہ جولیس مالیما بھی شامل تھے۔

انھوں نے اپنے ارکانِ پارلیمان کے اقدام کا یہ کہتے ہوئے دفاع کیا کہ یہ جمہوریت کی دفاع کے لیے جائز کوشش تھی۔ ان کے بقول ان کی جماعت کے ساتھ ارکان زحمی ہوئے ہیں۔

جولیس مالیما ایک وقت صدر ذوما کے قریبی اتحادی تھے تاہم بعد میں ان میں اختلافات پیدا ہو گئے۔

اكانومك فریڈم فائٹرز پارٹی نے دولت کے دوبارہ تقسیم کے حوالے سے کئی منصوبے پیش کیے جس سے جنوبی افریتقہ کی سیاست میں ہلچل مچی۔

ذوما گذشتہ سال ہونے والے انتخابات میں بھاری اکثریت سے دوبارہ صدر منتخب ہوئے تھے

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنذوما گذشتہ سال ہونے والے انتخابات میں بھاری اکثریت سے دوبارہ صدر منتخب ہوئے تھے