جنوبی افریقہ کے صدر زوما لیبیا میں

فائل فوٹو، زوما قذافی ملاقات

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشناپریل میں صدر جیکب زوما کی قیادت میں پانچ افریقی ملکوں کےسربراہوں نے لیبیا کا دورہ کیا تھا

جنوبی افریقہ کے صدر جیکب زوما لیبیا میں جاری لڑائی کے پرامن سفارتی حل کے لیے کوشش کے سلسلے میں دارالحکومت طرابلس پہنچ گئے ہیں۔

طرابلس میں وہ لیبیائی رہنما کرنل معمر قذافی سے ملاقات کررہے ہیں۔

صدر زوما کے اس دورے کو لیبیا میں لڑائی اور حکومت مخالف مزاحمت کے پرامن حل کی آخری کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔

<link type="page"><caption> لیبیا: باغیوں نے امن منصوبہ مسترد کر دیا</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2011/04/110411_libya_rebels_rejection_ha.shtml" platform="highweb"/></link>

ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ آیا صدر جیک زوما کے دورے کے دوران کرنل قذافی کے اقتدار سے الگ ہونے کی حکمت عملی پر بات ہو گی تاہم کرنل قذافی کے مشیروں نے کہا کہ کرنل کے اقتدار سے الگ ہونے کے کوئی امکانات نہیں ہیں۔

صدر زوما کے ترجمان زیزی کودوا کا کہنا ہے کہ پیر کو صدر زوما کا دورہ افریقی یونین کی ان کوششوں کا حصہ ہے جس کے تحت لیبیا کو اس بات پر قائل کرنا ہے کہ اسے بحران کے حل کے لیے سیاسی اصلاحات کرنے کی ضرورت ہے۔‘

تاہم صدر کے دفتر کے اہلکار نے نام نہ بتانے کی شرط پر فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ صدر کے دورے کا مقصد کرنل قذافی کے اقتدار سے الگ ہونے کے حوالے سے حکمت عملی طے کرنا ہے۔

کرنل قذافی پر اقتدار سے علیحدگی کے حوالے سے عالمی دباؤ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنکرنل قذافی پر اقتدار سے علیحدگی کے حوالے سے عالمی دباؤ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے

صدر زوما ایک ایسے وقت لیبیا کا دورہ کر رہے ہیں جب برطانیہ اور فرانس نے لیبیا میں نیٹو کی کوششوں میں مدد کے لیے جنگی ہیلی کاپٹر روانہ کرنے کا اعلان کیا ہے، ان کوششوں کا مقصد اس جمود کا خاتمہ ہے جس میں ایک طرف لیبیا کے مشرقی علاقوں پر باغیوں کا کنٹرول ہے جب کہ دوسری جانب زیادہ مغربی علاقوں پر لیبیائی حکومت کی فوج کا کنٹرول ہے۔

رواں سال فروری کرنل قذافی کی حامیوں فوج سے لڑنے والے باغیوں نے کہا ہے کہ اس وقت تک مذاکرات نہیں ہونگے جب تک کرنل قذافی اقتدار سے علیحدہ نہیں ہوتے ہیں۔

کرنل قذافی پر اقتدار سے علیحدگی کے حوالے سے عالمی دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔ جمعہ کو آٹھ امیر ممالک کی تنظیم جی ایٹ نے ان کی علیحدگی کا مطالبہ کیا تھا جب کہ سنیچر کو لیبیا کے ایک اہم اتحادی روس کے صدر دمتری میدوف نے کہا تھا کہ’ کرنل قذافی کے پاس لیبیا کی رہنما کا کوئی حق نہیں رہا ہے۔‘

دریں اثنا جنوبی افریقہ میں دورے سے قبل صدر زوما کی حکمران جماعت افریقن نیشنل کانگریس نے لیبیا میں نیٹو کی بمباری کی مذمت کی ہے۔