’نیلسن مینڈیلا کی صحت میں بہتری لیکن حالت نازک‘

جوہانسبرگ میں بی بی سی کے نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ شہری سابق صدر کی وفات کے لیے تیار ہیں
،تصویر کا کیپشنجوہانسبرگ میں بی بی سی کے نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ شہری سابق صدر کی وفات کے لیے تیار ہیں

جنوبی افریقہ کے صدر جیکب زومانے کہا ہے کہ ملک کے سابق صدر نیلسن مینڈیلا کی صحت میں بدھ کی رات بہتری آئی ہے لیکن ان کی حالت تاحال نازک ہے۔

ادھر صدر زوما نے نیلسن مینڈیلا کے ڈاکٹروں کی ٹیم سے بات کرنے کے بعد کہا کہ ’کل رات کی نسبت جب میں آج ان سے ملا تھا تو ان کی حالت پہلے سے بہتر ہے۔‘

ادھر جنوبی افریقہ کے سابق صدر نیلسن مینڈیلا کی بیٹی مکازیوی نے کہا کہ اگرچہ نیلسن مینڈیلا کی حالت تشویش ناک ہے لیکن وہ اشارے سے بات کا جواب دیتے ہیں۔

انھوں نے ملک کے سرکاری نشریاتی ادارے کو بتایا ’ان کی حالت ٹھیک دکھائی نہیں دیتی۔ میں جھوٹ نہیں بولنا چاہتی۔لیکن جیسا کہ میں نے کہا کہ جب ہم ان سے بات کرتے ہیں تو وہ اشارے سے جواب دیتے ہیں اور آنکھیں کھولنے کی کوشش کرتے ہیں۔وہ شاید جانے والے ہیں لیکن وہ ابھی تک ہیں‘۔

مکازیوی نے بین الاقوامی میڈیا کے کردار پر بھی کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ’بین الاقوامی میڈیا میں نسل پرستی کا عنصر ہے جہاں وہ حدوں کو پار کر دیتے ہیں۔۔گد کی طرح انتظار کرتے ہیں کہ کب شیر بھینس کو کھاتا ہے‘۔

جمعرات کو ہی جنوبی افریقہ کے صدارتی دفتر کا کہنا تھا کہ گذشتہ دو روز میں نیلسن مینڈیلاکی حالت مزید بدتر ہوئی ہے تاہم نیلسن مینڈیلا کی پوتی دیلیکا مینڈیلانے بعد میں کہا تھا کہ ان کی حالت نازک لیکن ’مستحکم‘ ہے۔

جنوبی افریقہ کے صدر جیکب زوما نے ملک کے سابق صدر نیلسن مینڈیلا کے ساتھ ہسپتال میں ملاقات کے بعد جمعرات کو اپنا افریقی ملک موزمبیق کا دورہ منسوخ کر دیا تھا۔صدارتی دفتر کے ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ گذشتہ دور روز میںنیلسن مینڈیلا کی حالت مزید بدتر ہوئی۔

بیان میں کہا گیا تھا کہ ڈاکٹر سابق صدر کی بہتری کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔

دیلیکا مینڈیلا نے نیلسن مینڈیلا سے ہسپتال میں ملاقات کے بعد کہا تھا کہ 94 سالہ نیلسن مینڈیلا کے خاندان کو عوام کی طرف سے ہمدردانہ پیغامات سے اطمینان حاصل ہوا ہے۔

انھوں نے کہا ’ان کی حالت مستحکم ہے۔ ہم دعا اور ہمدردی کا اظہار کرنے والے تمام لوگوں کا شکریہ ادا کرنا چاہتے ہیں۔ ہم بھی آپ کی طرح فکرمند ہیں جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ ان کی حالت نازک لیکن مستحکم ہے‘۔

انھوں نے مزید کہا ’یہ بہت مشکل صورتِ حال ہے اس لیے ہمیں سب کچھ عوام کے سامنے کرنا پڑ رہا ہے‘۔

خیال رہے کہ جنوبی افریقہ کے پہلے سیاہ فام صدر نیلسن مینڈیلا 8 جون سے پھیپھڑوں کے انفیکشن کے باعث ہسپتال میں زیرِ علاج ہیں۔ اُن کی عمر 94 سال ہے۔

اس سے پہلے جنوبی افریقہ کے صدر جیکب زوما نے ملک کے سابق صدر نیلسن مینڈیلا کے ساتھ ہسپتال میں ملاقات کے بعد جمعرات کو اپنا افریقی ملک موزمبیق کا دورہ منسوخ کر دیا تھا۔

ہسپتال کے باہر نیلسن مینڈیلا کی صحت یابی کے لیے دعائیں کرنے والا ایک ہجوم جمع تھا۔

جوہانسبرگ میں بی بی سی کے نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ شہری سابق صدر کی وفات کے لیے ذہنی طور پر تیار ہیں۔

گذشتہ دو برسوں میں نیلسن مینڈیلا پانچ بار ہسپتال جا چکے ہیں۔ اپریل میں انھیں نمونیا کی وجہ سے دس دن ہسپتال میں رہنا پڑا تھا۔

نیلسن مینڈیلا نسلی امتیاز کے خلاف طویل جدوجہد کے بعد جنوبی افریقہ کے پہلے سیاہ فام صدر منتخب ہوئے، اور انھیں بابائے جمہوری جنوبی افریقہ کہا جاتا ہے۔

مینڈیلانے 20 سال سے زیادہ عرصہ قید میں گزارا اور انھیں فروری سنہ 1990 میں رہائی ملی تھی۔

انہیں اپنے ملک پر نسل پرستی کی بنیاد پر قابض سفید فام حکمرانوں کے خلاف پر امن مہم چلانے پر سنہ 1993 میں امن کا نوبل انعام دیا گیا تھا۔

نیلسن مینڈیلا سنہ 1994 سے سنہ 1999 کے دوران جنوبی افریقہ کے پہلے سیاہ فام صدر رہے ہیں۔ انہوں نے 2004سنہ کے بعد سے عوامی مصروفیات کو الوداع کہہ دیا تھا۔