’نیلسن مینڈیلا کی حالت تشویشناک ہے‘

جنوبی افریقہ کے صدارتی دفتر کا کہنا ہے کہ 94 سالہ سابق صدر نیلسن مینڈیلا کی حالت ’تشویشناک‘ ہے۔
صدر جیکب زوما نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ڈاکٹر مینڈیلا کی حالت بہتر کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔
یاد رہے کہ نیلسن مینڈیلا پھیپھڑوں کے انفیکشن کے باعث پچھلے سولہ روز سے ہسپتال میں زیرِ علاج ہیں۔
مینڈیلاکی عمر94 برس ہے اور وہ خاصے عرصے سے علیل ہیں۔
صدر جیکب نے بیان میں کہا کہ وہ اتوار کو ہسپتال گئے تھے اور ان کو بتایا گیا کہ سابق صدر کی حالت گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں بگڑ گئی ہے۔
’ڈاکٹر مادیبا کی حالت بہتر کرنے کی ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔ مادیبا محفوظ ہاتھوں میں ہیں۔‘
بیان میں مینڈیلا اور ڈاکٹروں کی ٹیم کے لیے دعا کی درخواست کی گئی ہے۔
صدر زوما کے ترجمان میک مہاراج نے بی بی سی کو بتایا ’ڈاکٹروں نے مینڈیلا کے لیے ’تشویشناک حالت‘ کا لفظ استعمال کیا ہے۔ یہ لفظ سابق صدر کی حالت کو بیان کردیتا ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
گذشتہ دو برسوں میں مینڈیلا پانچ بار ہسپتال جا چکے ہیں۔ اپریل میں انھیں نمونیا کی وجہ سے دس دن ہسپتال میں رہنا پڑا تھا۔
نیلسن مینڈیلا نسلی امتیاز کے خلاف طویل جدوجہد کے بعد جنوبی افریقہ کے پہلے سیاہ فام صدر منتخب ہوئے، اور انھیں بابائے جمہوری جنوبی افریقہ کہا جاتا ہے۔
مینڈیلا نے دوران 20 سال سے زیادہ عرصہ قید میں گزارا اور انھیں فروری 1990 میں رہائی ملی تھی۔
انہیں اپنے ملک پر نسل پرستی کی بنیاد پر قابض سفید فام حکمرانوں کے خلاف پر امن مہم چلانے پر 1993 میں امن کا نوبل انعام دیا گیا تھا۔
نیلسن مینڈیلا 1994 سے 1999 کے دوران جنوبی افریقہ کے پہلے سیاہ فام صدر رہے ہیں۔ انہوں نے 2004 کے بعد سے عوامی مصروفیات کو الوداع کہہ دیا تھا۔
واضح رہے کہ دو ہفتے قبل جب نیلسن مینڈیلا کو ہسپتال پنتقل کیا جا رہا تھا تو ہسپتال لے جانے والی ایمبولینس راستے میں خراب ہو گئی تھی۔
ایمبولینس کے انجن میں خرابی ہو گئی تھی جس کی وجہ سے سابق صدر نیلسن مینڈیلا کو ایک دوسری ایمبولینس میں منتقل کر کے ہسپتال پہنچایا گیا۔
نیلسن مینڈیلا کو چالیس منٹ تک دوسری ایمبولینس کا انتظار کرنا پڑا اور انتہائی سرد موسم میں مینڈیلا کو دوسری ایمبولینس میں منتقل کیا گیا۔







