نیلسن مینڈیلا کا کرسمس ہسپتال میں

جنوبی افریقہ کی حکومت کا کہنا ہے کہ ملک کے پہلے سیاہ فام صدر نیلسن مینڈیلا اس سال کرسمس ہسپتال میں منائیں گے۔
94 سال کے مینڈیلا کو دو ہفتے پہلے پھیپھڑوں میں انفیکشن اور پتھری کے علاج کے لیے ہسپتال میں داخل کیا گیا تھا۔
جنوبی افریقہ میں ان کی صحت کے بارے میں تشویش بڑھتی جا رہی ہے۔
نیلسن مینڈیلا جنوبی افریقہ میں وہ سب سے زیادہ قابل قدر شخصیت ہیں۔
سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ان کے ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ سابق صدر نیلسن مینڈیلا ہسپتال ہی میں کرسمس منائیں گے۔
جوہانسبرگ میں بی بی سی كی نامہ نگار کیرن ایلن کا کہنا ہے کہ ہر گزرتے دن کے ساتھ مینڈیلا کی صحت کے بارے میں عوامی تشویش بڑھتی جا رہی ہے۔
امید تھی کہ انہیں گھر پر کرسمس منانے کی اجازت دی جائے گی، لیکن ان کے ڈاکٹر اب بھی ان کو ہسپتال سے جانے پر متفق نہیں ہیں۔
حکومت کا کہنا ہے کہ ان کا علاج دارالحکومت پریٹوريا میں ایک ہسپتال میں پھیپھڑوں میں انفیکشن کے لیے کیا جا رہا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ان کی پتھری نکالنے کے لیے آپریشن کیا جا چکا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یاد رہے کہ پہلی بار 1980 کی دہائی میں نیلسن مینڈیلا کے ٹی بی سے متاثر ہونے کا پتہ چلا تھا جب وہ جیل میں بند تھے۔
گزشتہ دو سال میں یہ تیسرا موقع ہے جب انہیں ہسپتال میں داخل کرانا پڑا ہے۔ جنوری 2011 میں شدید چھاتی میں انفیکشن کے باعث ان کا جوہانسبرگ میں علاج کیا گیا تھا۔
اس سال فروری میں پیٹ درد کی وجہ سے انہیں پھر سے جوہانسبرگ كے ہسپتال میں داخل کیا گیا تھا۔ کچھ ٹیسٹ کے بعد انہیں ہسپتال سے گھر بھیج دیا گیا تھا۔
مینڈیلا 2004 میں عوامی زندگی سے ریٹائرمنٹ لے چکے ہیں اور کبھی کبھار عوامی پروگراموں میں نظر آتے ہیں۔
نیلسن مینڈیلا 1994 سے 1999 تک جنوبی افریقہ کے پہلے سیاہ فام صدر رہ چکے ہیں۔







