نائجیریا: گڈلک جوناتھن کیوں ہارے؟

،تصویر کا ذریعہAFP
نائجیریا کے عوام اس بات کے عادی ہیں کہ اگر انتخابات ہوں تو ملک کا موجودہ صدر ہی جیتے گا۔ لیکن صدر گڈلک جوناتھن کی جنرل محمد بخاری کو شکست دینے میں ناکامی وضاحت کی متقاضی ہے۔
وہ پانچ اسباب جن کی وجہ سے اپوزیشن یہ انتخابات جیتی کچھ یوں ہیں۔
اس بار دھاندلی مشکل تھی
گذشتہ انتخابات دھاندلی کے الزامات اور بےقاعدگیوں کے شکوک کی وجہ سے اپنی وقعت کھو بیٹھے تھے۔ 2007 میں مبصرین کا کہنا تھا کہ صدارتی انتخاب ’قابلِ یقین‘ نہیں تھا۔ 2011 میں صورتِ حال بہتر تھی لیکن مبصرین کا خیال تھا کہ ان انتخابات میں دھاندلی ہوئی۔
اس بار انتخابی کمیشن نے دھاندلی روکنے کے لیے زیادہ اقدامات کیے جن میں ووٹروں کے لیے نئے بائیومیٹرک کارڈ بھی شامل ہیں۔ ساتھ ساتھ موجودہ صدر کی جماعت پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کچھ اہم ریاستوں کا کنٹرول کھو چکی تھی جس کا مطلب یہ تھا کہ وہاں یہ پارٹی انتخابی عمل پر غالب نہیں ہو سکتی تھی۔
بوکو حرام اور سکیورٹی

،تصویر کا ذریعہReuters
موجودہ انتخابات ملک کے شمال مشرقی حصے میں اسلامی بغاوت کے پس منظر میں منعقد ہوئے۔ شدت پسند گروپ بوکو حرام نے حکومت کے خلاف جنگ شروع کرنے کے بعد سے اب تک 20 ہزار افراد کو ہلاک کیا ہے اور تقریباً 30 لاکھ افراد کو گھر چھوڑنے پر مجبور کیا ہے۔
صدر جوناتھن کو بوکو حرام پر قابو نہ پانے کی وجہ سے تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ سکیورٹی حالات کی بہتری کے انتظار میں انتخابات میں چھ ہفتے تک تاخیر ہوئی۔ اگرچہ بوکو حرام کے زیرِ قبضہ بہت سے علاقے حکومت کے قبضے میں واپس آگئے لیکن اکثر لوگوں کا خیال ہے کہ اس میں بہت دیر ہو گئی۔
منتشر حکمراں جماعت اور متحد اپوزیشن
حکمراں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کو انتخاب جیتنے والی مشین قرار دیا گیا تھا۔ جب یہ بنی تھی تو اس نے شمال کے ممتاز طبقے کو جنوب کے اہم سیاست دانوں کے ساتھ متحد کر دیا تھا۔ لیکن اب یہ اتحاد ختم ہو چکا ہے اور حکمراں جماعت کئی اہم رہنماؤں سے ہاتھ دھو بیٹھی ہے۔ اور تو اور ملک کے ایک سابق صدر بھی جوناتھن گڈلک کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے تھے۔
معیشت
نائجیریا افریقہ کا سب سے زیادہ تیل پیدا کرنے والا ملک ہے اور اس کی معیشت کا حجم بھی بڑا ہے۔ لیکن بہت سے لوگوں کو اس کے فوائد نہیں ملے اور نصف سے زیادہ آبادی خطِ غربت سے نیچے زندگی گزار رہی ہے۔ بدعنوانی بھی موجودہ خرابیوں کی ذمہ دار تصور کی جاتی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تبدیلی کا وقت

اپوزیشن اتحاد اے پی سی کے حمایتی جہاں بھی گئے ان کا نعرہ تھا ’تبدیلی‘۔لگتا ہے کہ اس نعرے نے گویا عوامی مزاح کی نبض پکڑ لی۔ جوناتھن گڈلک کی جماعت 1999 میں فوجی اقتدار کے خاتمے کے بعد سے حکومت میں ہے اور 2015 میں نائجیریا کے لوگوں نے طے کر لیا کہ معاملات ٹھیک کرنے کے لیے اس دفعہ کسی دوسرے کو باری ملنی چاہیے۔
اب نو منتخب صدر بخاری کو یہ ثابت کرنا ہے کہ وہ تبدیلی لا سکتے ہیں۔








