نائجیریا کے انتخابات میں ’سیاسی مداخلت‘ کے الزامات

،تصویر کا ذریعہbbc
نائجیریا میں ہونے والے انتخابات میں حالیہ صدر گڈلک جوناتھن اور ان کے حریف اور سابقہ فوجی حکمران محمد بہاری میں سخت مقابلہ ہے، اور فی الحال فاتح کی پیشن گوئی کرنا مشکل ہے۔
اب تک آٹھ صوبوں اور دارالحکومت ابوجا میں نتائج کا اعلان کیا جا چکا ہے جہاں صدر جوناتھن کی جماعت پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کو تقریباً 20 ہزار ووٹوں کی سبقت حاصل ہے۔
حتمی نتائج منگل کے روز آنے کی توقع ہے۔
امریکہ اور برطانیہ نے ایک مشترکہ بیان میں ووٹوں کی گنتی کے دوران ممکنہ ’سیاسی مداخلت‘ کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا ہے۔
امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری اور ان کے برطانوی ہم منصب فلپ ہیمنڈ کے مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے: ’اب تک ہم نے انتخابی عمل میں منظم مداخلت کے شواہد نہیں دیکھے، تاہم اس بات کی پریشان کن علامات نظر آئی ہیں کہ ووٹوں کی گنتی کے دوران ممکنہ سیاسی مداخلت کی گئی ہے۔‘
نائجیریا کے الیکشن کمیشن نے اس تشویش کو مسترد کر دیا ہے۔ ادارے کے ایک ترجمان نے خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ’کسی مداخلت کی قطعاً کوئی بنیاد نہیں ہے۔‘
جن نو علاقوں کی گنتی مکمل ہو گئی ہے ان میں پی ڈی پی نے چار میں، جب کہ جنرل بہاری کی آل پروگریسیو کانگریس نے پانچ علاقوں میں کامیابی حاصل کی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بعض علاقوں میں نئی کارڈ ریڈنگ مشینوں میں خرابی کی وجہ سے ووٹنگ میں اتوار کے دن تک توسیع کرنا پڑی۔
صدر جوناتھن ان ووٹروں میں شامل تھے جن کی رجسٹریشن اس مسئلے کی وجہ سے تاخیر کا شکار ہوئی۔
پی ڈی پی نے ان مشینوں کی پہلے ہی سے مخالفت کی تھی اور انھوں نے انھیں ’بڑی قومی خجالت‘ قرار دیا ہے۔
تاہم چیف الیکشن کمیشنر اتاہیرو جیگا نے کہا ہے ملک بھر میں استعمال کیے جانے والی ڈیڑھ لاکھ مشینوں میں سے صرف کچھ ہی خراب ہوئی ہیں۔








