نائجیریا: پرتشدد واقعات کے بعد باقی پولنگ اتوار کو

،تصویر کا ذریعہbb
نائجیریا میں صدارتی انتخابات کے دوران پر تشدد واقعات اور انتخابی عمل میں تعطل کے بعد پولنگ کا دورانیہ اتوار تک بڑھا دیا گیا ہے۔
نائجیریا میں چھ ہفتوں کے تعطل کے بعد صدارتی انتخابات کے لیے پولنگ کا عمل سنیچر کو شروع ہوا تھا۔
صدارتی منصب کے لیے موجودہ صدر گڈلک جوناتھن کے مقابلے میں سابق فوجی حکمران جنرل محمد بوہاری اہم امیدوار ہیں۔
نائجیریا میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ پولنگ کے دوران شدت پسند گروہ کی جانب سے حملوں کا خطرہ ہے۔
یاد رہے کہ انتخابات کو طے شدہ شیڈیول کے چھ ہفتے بعد منعقد کرنے کا مقصد یہ تھا کہ ملک کی فوج شدت پسند تنظیم بوکو حرام کے قبضے میں موجود علاقوں کا کنٹرول واپس لے سکے۔
نائجیریا کی سرکاری فوج نے جمعے کو شدت پسند تنظیم بوکوحرام کے زیر قبضہ شمال مشرقی علاقے گاؤزا پر دوبارہ قبضہ کر لیا ہے۔
خیال ہے کہ گاؤزا بوکرام حرام کا ہیڈکوارٹر تھا۔
حالیہ انتخابات کو نائجیریا کی آزادی کے بعد لڑے جانے والا سب سے سخت ترین مقابلہ قرار دیا جا رہا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی کے نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ پولنگ کا عمل نہایت سست روی کا شکار ہے۔ ووٹ ڈالنے سے پہلے ووٹرز کو رجسٹریشن اپنی فنگرپرنٹس کے ساتھ بائیو میٹرک کارڈ کا استعمال کر رہے ہیں۔
چند علاقوں میں پولنگ کا عمل دیر سے شروع ہونے کی اطلاعات کے باوجود الیکشن انتظامیہ کے ترجمان نے اے ایف ی کو بتایا کہ تمام پولنگ سٹیشن کھلے ہوئے ہیں۔
یاد رہے کہ پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی 1999 سے لے کر اب تک نائجیریا کی سیاست میں غالب رہی ہے لیکن اسے اس وقت سب سے بڑا چیلینج آل پروگریسیو کانگرس اے پی سی سے دکھائی دے رہا ہے۔
یاد رہے کہ 2011 میں جنرل (ر) بوہاری اور گڈلک جوناتھن کے درمیان ہونے والے مقابلے کے بعد سے اب تک ملک میں 800 سے قریب ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔








