لیبیا میں آئل فیلڈ پر حملہ، نو غیر ملکی مزدور لاپتہ

غیر ملکیوں کو ہدف بنانے کے واقعات میں لیبیا کے موجودہ سیاسی بحران کے دوران اضافہ ہوا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنغیر ملکیوں کو ہدف بنانے کے واقعات میں لیبیا کے موجودہ سیاسی بحران کے دوران اضافہ ہوا ہے۔

اطلاعات کے مطابق شدت پسندوں نے لیبیا میں تیل کے کارخانے میں کام کرنے والے نو غیر ملکی کارکنوں کو اغوا کر لیا ہے۔

آسٹریا، فلپائن اور بنگلہ دیش کا کہنا ہے کہ نو مغوی کارکنوں میں ان کے شہری بھی شامل ہیں۔

یورپی ملک آسٹریا کی وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ اغوا کیے گئے کارکنوں میں سے چار فلپائنی، ایک آسٹرین، ایک بنگلہ دیشی ہے جبکہ گھانا اور جمہوریہ چیک کا ایک ایک شہری بھی مغویوں میں شامل ہے۔

ایک مغوی کی قومیت کی تاحال تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

لیبیا کی فوج کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ یہ حملہ جمعے کو طرابلس سے 700 کلومیٹر دور الغنی آئل فیلڈ پر کیا گیا تھا۔

انھوں نے مزید بتایا کہ اس حملے میں کارخانے کی سکیورٹی پر مامور آٹھ محافظوں کے سر بھی قلم کیے گئے جنھیں دیکھ کر ایک کارکن دل کا دورہ پڑنے سے ہلاک ہو گیا۔

آئل فیلڈ کے ترجمان کا کہنا تھا ’ہم جانتے ہیں کہ جب ان مزدوروں کو الغنی آئل فیلڈ سے لے جایا جا رہا تھا تو وہ زخمی نہیں تھے۔‘

تاہم ان کا کہنا تھا کہ وہ اس بات کی تصدیق نہیں کر سکتے کہ اس حملے میں کون سا عسکریت پسند گروہ ملوث ہے اور اغوا ہونے والوں کو کہاں لے جایا گیا ہے۔

غیر ملکیوں کو ہدف بنانے کے واقعات میں لیبیا کے موجودہ سیاسی بحران کے دوران اضافہ ہوا ہے۔