برطانوی بچے ’بڑے پیمانے‘ پر جنسی استحصال کا شکار

،تصویر کا ذریعہPA
وزیرِ اعظم ڈیوڈ کیمرون کا کہنا ہے کہ برطانوی بچے ’بڑے پیمانے‘ پر جنسی استحصال کا شکار رہے ہیں جبکہ حکام اس مسئلے سے نمٹنے میں ناکام رہے ہیں۔
بچوں کو جنسی استحصال سے بچانے کے منصوبوں کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے عوام اور اداروں پر اس معاملے سے ’چشم پوشی‘برتنے کا الزام لگایا۔
ان نئے منصوبوں کے تحت انگلینڈ اور ویلز میں وہ اساتذہ، کونسلر اور سماجی کارکن جو بچوں کا دفاع کرنے میں ناکام رہے ہیں، ان کو پانچ سال تک کی قید ہو سکتی ہے۔
اس معاملے میں پولیس بھی اب جنسی استحصال کو ایک ’قومی خطرے‘ کے درجے پر اہمیت دے گی۔
وزیرِ اعظم ڈیوڈ کیمرون نے رودرہیم اور آکسفورڈ شائر میں بچوں کے جنسی استحصال کے سکینڈل پر ایک کانفرنس سے خطاب کے دوران کہا کہ: ’میرا خیال ہے کہ ہمیں ایک قدم پیچھے ہٹ کر اس بات کو سمجھنا چاہیے کہ ہمارے ملک میں جو کچھ ہوا ہے وہ کس قدر گھناؤنا ہے‘۔
یہ نئے منصوبے اس وقت سامنے آئے ہیں جب آکسفورڈ شائر کاؤنٹی میں گزشتہ 16 برسوں میں بچوں کے مبینہ جنسی استحصال کے 373 واقعات پر تحقیقات جاری ہے۔
ان تحقیقات کا آغاز آکسفورڈ میں سات افراد پر مبنی گینگ کے 2004 اور 2012 کے دوران لڑکیوں کے جنسی استحصال پر سزا کے بعد ہوا اور تحقیقات سے پتا چلا کہ پولیس اور مقامی انتظامیہ سے اس کیس میں ’کئی غلطیاں‘ سر زد ہوئیں۔



