کولمبیا: باغیوں کو حسینۂ کائنات سے امیدیں

مس یونیورس کا تاج حاصل کرنے کے دوران مز ویگا نے کہا تھا کہ وہ کولمبیا میں امن کی خواہاں ہیں

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنمس یونیورس کا تاج حاصل کرنے کے دوران مز ویگا نے کہا تھا کہ وہ کولمبیا میں امن کی خواہاں ہیں

کولمبیا کے باغیوں نے حال ہی میں حسن کی ملکۂ کائنات کا تاج حاصل کرنے والی خاتون کو حکومت کے ساتھ امن قائم کرنے کے سلسلے میں مدعو کیا ہے۔

کولمبیا کے باغی جنگجو گروپ فارک نے اپنی ویب سائٹ پر ایک بیان میں کہا ہے کہ مس یونیورس کا خطاب حاصل کرنے کے مقابلے کے دوران ملکۂ کائنات پولینا ویگا نے حکومت اور باغیوں کے درمیان صلح کرانے کی پیشکش کی تھی۔

پولینا ویگا نے ابھی اس پر اپنے رد عمل کا اظہار نہیں کیا ہے اور نہ ہی فارک نے کوئی تفصیل دی ہے کہ وہ آخر کس طرح امن سمجھوتہ کرا سکتی ہیں۔

واضح رہے کہ اس گروپ نے گذشتہ 50 برسوں سے حکومت مخالف چھاپہ مار جنگ چھیڑ رکھی ہے۔

جبکہ نومبر سنہ 2012 سے ہوانا میں قیام امن کے لیے بات چیت جاری ہے۔

باغی گروپ فارک نے کولمبیا میں گذشتہ 50 برسوں سے حکومت مخالف چھاپہ مار جنگ چھیڑ رکھی ہے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنباغی گروپ فارک نے کولمبیا میں گذشتہ 50 برسوں سے حکومت مخالف چھاپہ مار جنگ چھیڑ رکھی ہے

طرفین کے نمائندے کسی سمجھوتے تک پہنچنے کی کوشش میں لگے ہیں جبکہ ابھی بات چیت تعطل کا شکار ہے۔

اس سلسلے میں ابھی تک زمین میں اصلاحات اور فارک کو باضابطہ سیاسی دائرے میں لانے پر اتفاق ہوا ہے لیکن ایک حتمی امن سمجھوتہ نہیں ہو پا رہا ہے۔

یاد رہے کہ مس یونیورس کا تاج حاصل کرنے کے دوران مز ویگا نے کہا تھا کہ وہ کولمبیا میں امن کی خواہاں ہیں۔

اپنے بیان میں فارک نے کہا ہے کہ وہ ہوانا کے دورے کی ان کی ’خواہش‘ کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ اور اس کے ساتھ یہ بھی کہا: ’ہم آپ کو اس دورے کو سود مند بنانے کی دعوت دیتے ہیں اور آپ کو امن پر ہونے والی بات چیت کے ضمن میں ہونے والی پیش رفت کے متعلق تازہ معلومات فراہم کرتے ہیں۔‘

نومبر سنہ 2012 سے کولمبیا میں قیام امن کے لیے بات چیت جاری ہے

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشننومبر سنہ 2012 سے کولمبیا میں قیام امن کے لیے بات چیت جاری ہے

ہوانا میں ہمارے نامہ نگار ول گرانٹ کا کہنا ہے کہ یہ امر حیران کن ہے کہ جنگجو گروپ مز ویگا کے جذبات کا فائدہ اٹھانا چاہتا ہے۔

باغیوں کو یہ امید ہو سکتی ہے کہ وہ حالیہ تعطل کو توڑنے میں کوئی کردار ادا کر سکتی ہیں۔

مارکسی نظریے کی حامل بائیں بازو کی باغی جماعت فارک نے سنہ 1964 سے مسلح جنگ چھیڑ رکھی ہے جس میں دو لاکھ 20 ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور ان میں سے اکثریت عام شہری کی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty