کولمبیا:باغیوں اور حکومت کے درمیان سمجھوتہ

کولمبیا کی حکومت اور فارک باغیوں کے درمیان چھ مہینوں تک جاری مذاکرات کے بعد زمینی اصلاحات پر سمجھوتہ ہو گیا ہے۔
کیوبا کے دارالحکومت ہوانا میں اتوار کو ہونے والے اس سمجھوتے میں کولمبیا کی دیہاتی علاقوں کو معاشی اور سماجی ترقی دینے اور غریب کسانوں کو زمین دینے کی بات کی گئی ہے۔
خیال رہے کہ زمین کی جائز تقیسم اور دیہی ترقی کے مطالبات کولمبیا میں تنازع کی بڑی وجوہات تھیں۔
حکومت اور فارک باغیوں کے ایک مشترکہ بیان کے مطابق’یہ سمجھوتہ کولمبیا کی دیہاتی علاقوں میں زبردست تبدیلی کا باعث بنے گا۔‘
اس سمجھوتے کے تحت ایک لینڈ بینک قائم کیا جائے گا جس کے ذریعے زمین کی از سرِ نو تقیسم ہو گی جس میں غیر قانونی طور پر قبضہ شدہ زمین بھی شامل ہے۔
حکومت کی طرف سے مذاکراتی ٹیم کے سربراہ ہوم برٹو ڈی لا کالی نے ہوانا میں صحافیوں کو بتایا کہ’آج ہمارے پاس مذاکرات کے ذریعے امن حاصل کرنے کے لیے حقیقی موقع ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’اس عمل کی حمایت کرنا کولمبیا پر یقین کرنے کے مترادف ہے۔‘
کولمبیا کا سب سے بڑا گوریلا گروپ سمجھے جانے والے فارک باغی گذشتہ نومبر سے حکومت کے ساتھ مذاکرات میں تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
لاطینی امریکہ میں ایک لمبے عرصے تک جاری رہنے والے اس تنازع کو بات چیت کے ذریعے سلجھانے کے لیے یہ چوتھی کوشش ہے۔
حکومت اور فارک باغیوں کے درمیان دوبارہ مذاکرات گیارہ جون کو شروع ہونگے جس میں باغیوں کی سیاست میں شرکت پر بات چیت ہوگی۔

معاہدے کے بعد کولمبیا کے صدر جوان مینئل سانتوس نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں کہا کہ ’ہم اس بچاس سالہ تنازع کو ختم کرنے کے لیے اس اہم اقدام پر جشن مناتے ہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ ’ہم امن کے اس عمل کو احتیاط اور ذمہ داری کے ساتھ جاری رکھیں گے۔‘
دونوں طرفین نے اس بات پر زور دیا ہے کہ جب تک مکمل امن معاہدہ نہیں ہو جاتا کوئی چیز حتمی نہیں ہے۔
حکومت اور باغیوں کے درمیان کشیدگی کے دوران ہلاکتوں کا اندازہ لگانا مشکل ہے لیکن حکومتی اندازوں کے مطابق 1960 میں شروع ہونے والے اس تنازعے میں تقربیاً چھ لاکھ افراد ہلاک اور تقریباً تیس لاکھ بے گھر ہوگئے۔







