کولمبیا: فارک کے اہم رہنما الفانسو ہلاک

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
لاطینی امریکی ملک کولمبیاکے وزیرِ دفاع نے مزاحمتی باغی تنظیم فارك کے تریسٹھ سالہ رہنما الفانسو کانو کی ہلاکت کی تصدیق کر دی ہے۔
کولمبین حکام کا کہنا ہے انہیں ملک کے جنوب مغربی پہاڑی علاقے میں ہونے والی ایک فوجی کارروائی کے دوران مارا گیا ہے۔
حکام کے مطابق کانو جنگل میں ایک کیمپ میں چھپے ہوئے تھے۔
واضح رہے کہ كولمبين حکومت نے کانو کے بارے میں اطلاع دینے یا انہیں پكڑوانے والے کے لیے چالیس لاکھ ڈالر کے انعام کا اعلان کیا ہوا تھا۔
كولمبين سکیورٹی فورسز گزشتہ ایک سال کے عرصے میں بائیں بازو کی مزاحمتی تنظیم فارك کے کئی کمانڈروں کو ہلاک کر چکی ہیں۔
کولمبیا کے صدر نے ایک سال قبل اقتدار سنبھالنے کے بعد وعدہ کیا تھا کہ وہ مزاحمت کاروں سے سختی سے نمٹیں گے۔ کانو کی ہلاکت پر ان کا کہنا ہے کہ یہ فارک کو اب تک پہنچنے والا سب سے بڑا نقصان ہے۔
بگوٹا سے تعلق رکھنے والے الفانسو کانو نے جن کا اصل نام گیلرمو ليون سائنز ہے، سنہ 2008 میں فارك کی کمان سنبھالی تھی اور اس وقت سے ہی وہ كولمبين سکیورٹی فورسز کے نشانے پر تھے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق سکیورٹی فورسز نے ٹیلی فون پر کی گئی بات چیت کے ریکارڈ کے ذریعے کانو کے ٹھکانے کا پتہ چلایا جس کے بعد آپریشن کیا گیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
حکام کے مطابق ابتدائی شناخت کے بعد ہی کانو کی موت کی تصدیق کی گئی ہے اور اب ان کی انگلیوں کے نشانات کا تجزیہ کیا جا رہا ہے۔
کانو کی موت کی تصدیق ہو نے کی صورت میں یہ گزشتہ سال فوجی بمباری میں فارك کے عسکری سربراہ کمانڈر مونو جوجوے کی ہلاکت کے بعد فارك کے لیے ایک بڑا جھٹکا ثابت ہو سکتا ہے۔
اس سے پہلے سنہ دو ہزار آٹھ میں فارک کو اپنے بانی رہنما مینل مارلاڈا کی دل کے دورے سے موت کا دھچکا سہنا پڑا تھا۔ مارلاڈا نے سنہ 1964 میں باغی تنظیم فارك بنائی تھی۔
فارک کولمبیا میں سرگرم بائیں بازو کے باغی گروہوں میں سے سے پرانی اور سب سے بڑی تنظیم ہے اور اس کا نام دہشتگرد تنظیموں کی امریکی اور یورپی فہرستوں میں بھی شامل ہے۔
کولمبیا میں گزشتہ چار دہائیوں سے اندرونی تنازعات کی لپیٹ میں ہے جن میں بائیں بازو کے باغی اور دائیں بازو کی حمایتی سکیورٹی فورسز مدِمقابل ہیں۔







