کولمبیا: انکار کے باوجود جیسی اپنے مشن پر کمربستہ

جیسی جیکسن نے فارک باغی رہنماؤں سے ہونا میں ملاقات کے بعد امریکی مغوی کی بازیابی کے لیے ثالثی کی پیش کش کی ہے
،تصویر کا کیپشنجیسی جیکسن نے فارک باغی رہنماؤں سے ہونا میں ملاقات کے بعد امریکی مغوی کی بازیابی کے لیے ثالثی کی پیش کش کی ہے

انسانی حقوق کے امریکی کارکن ریو جیسی جیکسن نے کہا ہے کہ کولمبیا کی حکومت کے انکار کے باوجود وہ مغوی امریکی فوجی کی بازیابی کے لیے کولمبیا جائيں گے۔

واضح رہے کہ سنیچر کو کولمبیا کے صدر جوان مینئل سانتوس نے جیسی جیکسن کی ثالثی کی پیش کش کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ فارک باغیوں سے مغوی کی بازیابی کے حوالے سے کوئی ’میڈیا تماشا‘ نہیں چاہتے۔

کولمبیا کے صدر نے کہا تھا کہ صرف ریڈ کراس کو مغوی کی بازیابی کے معاملے میں حصہ لینے کی اجازت دی جائے گي۔

دریں اثناء باغیوں نے صدر سے اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرنے کی اپیل کی ہے۔

<link type="page"><caption> کولمبیا: جیسی جیکسن کی ثالثی کی پیشکش مسترد</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2013/09/130929_colombia_rejects_jesse_farc_mediation_rk.shtml" platform="highweb"/></link>

اس کے علاوہ ریڈ کراس کی بین اقوامی کمیٹی (آئی سی آر سی) نے اتوار کو کہا تھا کہ وہ اس معاملے میں شامل ہونے سے قبل معاہدے کا انتظار کر رہے ہیں۔

آئی سی آر سی کے ترجمان اریکا توور نے کولمبیائی اخبار ال سپکٹیڈرو سے بات کرتے ہوئے کہا تھا: ’جب طرفین (فارک اور حکومت) کسی معاہدے پر متفق ہو جائیں، اس کے بعد ہم لوگ اپنا کردار نبھانا شروع کریں گے۔‘

اس سے پہلے جیسی جیکسن سابق امریکی فوجی کیون سکاٹ سیوٹے کی بازیابی کے لیے آئندہ ہفتے کولمبیا جانے پر راضی ہو گئے تھے۔ کیون سکاٹ نے افغانستان کی جنگ میں بھی حصہ لیا تھا۔

کیون سکاٹ کو کولمبیا کے سب سے بڑے باغی گروپ فارک نے جون میں پکڑ لیا تھا جو کہ مبینہ طور پر لڑائی والے علاقے سے برازیل جا رہے تھے۔

واضح رہے کہ ریو جیکسن نے فارک رہنما سے کیوبا کے دارالحکومت ہوانا میں ملاقات کی تھی جہاں یہ رہنما حکومت سے امن قائم کرنے پر بات چیت کے لیے پہنچے تھے۔ انھوں نے کہا تھا کہ وہ ایک دو روز میں کولمبیا جانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

ریو جیکسن نے ہوانا میں اخباری نمائندوں سے کہا کہ وہ آج بھی جانے کے لیے تیار ہیں ’لیکن ہمیں جنگ بندی زون اور ان کو حاصل کرنے کے حق کی ضرورت ہے۔‘

باغیوں کا کہنا ہے کہ وہ امریکی فوجی کو رہا کرنے کے لیے تیار ہیں اور انہوں نے اتوار کو اس بابت کولمبیا کی حکومت سے اپیل بھی کی ہے کہ وہ اس بابت کوئی قدم اٹھائیں اور سکاٹ کی رہائی میں مزید تاخیر نہ ہونے دیں اور اس کے لیے ضروری سکیورٹی فراہم کریں۔

ستمبر کے اوائل میں کولمبیا کے دورے کے دوران جیسی جیکسن نے کولمبیا میں باغیوں کے سب سے بڑے گروپ فارک سے کیون سکاٹ کو رہا کرنے کی اپیل کی تھی۔

کولمبیا کے صدر جوان مینئل سانتوس مغوی کی رہائی کے لیے صرف ریڈ کراس کی ثالثی کے حق میں ہیں
،تصویر کا کیپشنکولمبیا کے صدر جوان مینئل سانتوس مغوی کی رہائی کے لیے صرف ریڈ کراس کی ثالثی کے حق میں ہیں

بائیں بازو کی طرف جکاؤ رکھنے والے فارک باغیوں نے سنیچر کو اس اپیل کا جواب دیتے ہوئے جیسی جیکسن کو مغوی کی بازیابی کے حوالے سے مذاکرات میں حصہ لینے کی دعوت دی تھی۔

فارک باغیوں کی طرف سے دعوت کے چند گھنٹوں بعد جیسی جیکسن نے کیوبا کے دورے کے دوران اس دعوت کو قبول کیا۔ جیسی نے کولمبیا کی حکومت کے ساتھ مذاکرات کے لیے کیوبا آئے ہوئے فارک باغیوں کے رہنماؤوں سے ملاقات بھی کی۔

فارک باغیوں کا کہنا ہے کہ کیون سکاٹ کی رہائی سے کیوبا میں کولمبیا کی حکومت کے ساتھ مذاکرات کے لیے ’ماحول بہتر ہو جائے گا۔‘

حکومت اور باغیوں کے درمیان چھ نکات میں سے صرف ایک پر اتفاق ہوا ہے اور وہ زمینی اصلاحات ہے۔

کولمبیا میں گذشتہ پچاس سال سے جاری اندرونی کشیدگی سے لاکھوں لوگ بے گھر ہوئے ہیں۔

کولمبیا کے تاریخ کے سینٹر کی طرف سے کیے گئے ایک مطالعہ کے مطابق اب تک تشدد میں 220000 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔