کولمبیا: جیسی جیکسن کی ثالثی کی پیشکش مسترد

کولمبیا میں گذشتہ پچاس سال سے جاری اندرونی کشیدگی سے لاکھوں لوگ بے گھر ہوئے ہیں
،تصویر کا کیپشنکولمبیا میں گذشتہ پچاس سال سے جاری اندرونی کشیدگی سے لاکھوں لوگ بے گھر ہوئے ہیں

کولمبیا کے صدر جوآن مینئل سانتوس نے انسانی حقوق کے امریکی کارکن ریو جیسی جیکسن کی طرف سے فارک باغیوں سے ایک مغوی کو بازیاب کرانے کے معاملے میں ثالثی کی پیشکش کو مسترد کر دیا ہے۔

کولمبیا کے صدر نے کہا کہ صرف ریڈ کراس کو مغوی کی بازیابی کے معاملے میں حصہ لینے کی اجازت دی جائے کیونکہ وہ نہیں چاہتے کہ ’میڈیا میں کوئی تماشا بنے‘۔

اس سے پہلے جیسی جیکسن سابق امریکی فوجی کیون سکاٹ سیوٹے کی بازیابی کے لیے آئندہ ہفتے کولمبیا جانے پر راضی ہو گئے تھے۔ کیون سکاٹ نے افغانستان کی جنگ میں بھی حصہ لیا تھا۔

فارک باغیوں نے ایک بیان میں کہا تھا کہ جیسی جیکسن کے ’تجربے اور ایمانداری‘ سے کیون سکاٹ کی بازیابی جلد ہو سکے گی جس کے بعد سنیچر کو کیوبا کے دورے کے دوران فارک باغیوں سے مغوی کیون کو بازیاب کرانے کے لیے وہ ثالثی کے کردار پر راضی ہو گئے تھے۔

اس پر فوراً ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے صدر جوآن مینئل سانتوس نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں لکھا کہ’ فارک باغیوں سے امریکی مغوی کی بازیابی کی اجازت صرف ریڈ کراس کو دی جائے گی کیونکہ ہم میڈیا میں تماشا نہیں بنانا چاہتے۔‘

ستمبر کے اوائل میں کولمبیا کے دورے کے دوران جیسی جیکسن نے کولمبیا میں باغیوں کے سب سے بڑے گروپ فارک سے کیون سکاٹ کو رہا کرنے کی اپیل کی تھی۔

بائیں بازو کی طرف جکاؤ رکھنے والے فارک باغیوں نے سنیچر کو اس اپیل کا جواب دیتے ہوئے جیسی جیکسن کو مغوی کی بازیابی کے حوالے سے مذاکرات میں حصہ لینے کی دعوت دی تھی۔

فارک باغیوں کی طرف سے دعوت کے چند گھنٹوں بعد جیسی جیکسن نے کیوبا کے دورے کے دوران اس دعوت کو قبول کیا۔ جیسی نے کولمبیا کی حکومت کے ساتھ مذاکرات کے لیے کیوبا آئے ہوئے فارک باغیوں کے رہنماؤوں سے ملاقات بھی کی۔

فارک باغیوں کا کہنا ہے کہ کیون سکاٹ کی رہائی سے کیوبا میں کولمبیا کی حکومت کے ساتھ مذاکرات کے لیے ’ماحول بہتر ہو جائے گا۔‘

حکومت اور باغیوں کے درمیان چھ نکات میں سے صرف ایک پر اتفاق ہوا ہے اور وہ زمینی اصلاحات ہے۔

کولمبیا میں گذشتہ پچاس سال سے جاری اندرونی کشیدگی سے لاکھوں لوگ بے گھر ہوئے ہیں۔

کولمبیا کے تاریخ کے سینٹر کی طرف سے کیے گئے ایک مطالعہ کے مطابق اب تک تشدد میں 220000 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔