برطانیہ: ’تین افراد کا مشترکہ بچہ ہو سکتا ہے‘

،تصویر کا ذریعہPA
برطانیہ میں ارکانِ پارلیمنٹ نے دو خواتین اور ایک مرد کے جینیاتی مواد سے بچے کی پیدائش کے حق میں ووٹ دے دیا ہے۔
ماں سے بچے کو منتقل ہونے والی (موروثی) بیماریوں سے بچاؤ کے معاملے پر ہونے والے ’فری ووٹ‘ میں 382 ارکان نے ایسے بچوں کی پیدائش کے حق میں ووٹ دیا جبکہ 128 ارکان نے اس کی مخالفت کی۔
پارلیمان میں بحث کے دوران کئی وزیروں کا کہنا تھا کہ دو خواتین اور ایک مرد کے جینیاتی مواد کے ملاپ سے بچے کی پیدائش ’ان گھرانوں کے لیے روشنی کی کرن ہے‘ جو کسی موروثی مرض کا شکار ہیں اور اس خوف سے بچے پیدا نہیں کر پاتے کہ ان کے بچے بھی اس کا شکار ہو جائیں گے۔
پارلیمان میں منگل کو ہونے والی اس رائے شماری کے بعد اب برطانیہ دنیا کا وہ پہلا ملک بن سکتا ہے جہاں جہاں ایسے قوانین متعارف ہو جائیں گے جن کے تحت کسی بچے کے تین والدین ہو سکیں گے۔
اس تجویز کو مکمل قانون بننے میں ایک مرحلہ ابھی باقی ہے کیونکہ ابھی ہاؤس آف لارڈز نے بھی اس کی منظوری دینا ہے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر ہاؤس آف لارڈز سے مجوزہ نئے قانون کی منظوری ہو جاتی ہے تو امکان ہے کہ اگلے برس تک برطانیہ میں ایسے پہلے بچے کی ولادت ہو جائے گی جس کے ماں باپ کی تعداد تین ہو گی۔
نجات دہندہ؟
یہ طریقہ کار جس پر نیو کاسل میں کام کیا گیا ہے، سنڈرلینڈ سے تعلق رکھنے والی شیرن برناردی جیسی کئی خواتین کی مدد کر پائے گا جن کے ساتوں بچے ناقص مائٹو کونڈریا کی وجہ سے ہلاک ہو گئے تھے۔
مائٹو کونڈریا جسم کے تقریباً ہر سیل میں موجود چھوٹے چھوٹے دانوں کو کہتے ہیں جو خوراک کو توانائی میں تبدیل کرتے ہیں۔ ان کا اپنا ڈی این اے ہوتا ہے، تاہم وہ شکل وغیرہ جیسے خصائل پر اثر انداز نہیں ہوتا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
خراب مائٹو کونڈریا صرف ماں کے ذریعے سے اولاد میں منتقل ہوتے ہیں، اور ان کی وجہ سے دماغ کو نقصان، پٹھوں کی تضیع، ہارٹ فیلئیر اور اندھا پن یا بے بصری جیسی بیماریاں ہوسکتی ہیں۔
اس طریقہ کار میں جدید ٹیسٹ ٹیوب بے بی کی تکنیک کے ذریعے ماں اور باپ کے ڈی این اے کو ایک عطیہ دینے والی خاتون کے صحت مند مائٹو کونڈریا سے جوڑا جاتا ہے۔
نتیجتاً جو بچہ پیدا ہوتا ہے اس میں عطیہ دینے والی خاتون کا 0.1 فیصد ڈی این اے موجود ہوتا ہے۔ یہ ایک مستقل تبدیلی ہے جو اگلی پیڑھیوں تک منتقل ہوتی ہے۔
برطانوی دارالعوام میں بحث کے دوران وزیرِ صحت جین ایلیسن کا کہنا تھا: ’یہ پارلیمینٹ کے لیے جرات مندانہ قدم ہے لیکن یہ قدم سوچ بچار اور معلومات پر مبنی ہے۔ یہ دنیا کی معروف سائنس ہے جو بہترین ضابطوں کے تحت کی گئی ہے۔ متاثرہ خاندانوں کے لیے یہ خبر تاریک سرنگ میں روشنی کی کرن کی مانند ہے۔‘
رکنِ پارلیمان فیونا بروس کا نظریہ اس کے بر عکس تھا اور ان کا کہنا تھا: ’یہ (طریقہ کار) اگلی نسلوں تک منتقل ہوتا رہے گا اور اس کے مضمرات کے بارے میں ہم کوئی پیشن گوئی نہیں کر سکتے۔
’لیکن ایک بات یقینی ہے کہ جب ایک مرتبہ اس طریقہ کار کو اپنا لیا گیا تو جن بوتل سے باہر آ جائے گا۔ یہ طریقہ کار جس کی اجازت دینے کے لیے ہم سے آج کہا گیا ہے ایک بار رائج ہو گیا تو پھر معاشرے کے لیے واپس لوٹنا ممکن نہیں ہو گا۔‘
بحث کے دوران اس بات پر بھی کافی دقت پیش آئی کہ آیا ’جینیاتی ترامیم‘ بھی اس اقدام کا حصہ ہو سکتی ہیں۔







