کینیڈا: دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے نئے قوانین کی تجویز

پچھلے سال کینیڈا پر ہونے والے حملوں کے بعد ان قوانین کے مسودے پر کام شروع ہوا تھا

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنپچھلے سال کینیڈا پر ہونے والے حملوں کے بعد ان قوانین کے مسودے پر کام شروع ہوا تھا

کینیڈا کے وزیر اعظم اسٹیفن ہارپر نے دہشت گردی سے متعلق تجویز کردہ نئے قوانین کے تحت کینیڈا کے خلاف دہشت گردی کے حملوں کی حوصلہ افزائی ایک جرم بن جائے گا۔

نئے قوانین کے تحت ملک کی خفیہ ایجنسی کے اختیارات میں اضافہ ہوگا اور اسے حملے روکنے کے لیے براہ راست کارروائی کرنے کی اجازت ہوگی۔

خیال رہے کہ پچھلے سال کینیڈا پر ہونے والے حملوں کے بعد ان قوانین کے مسودے پر کام شروع ہوا تھا اور امید کی جارہی ہے کہ وزیر اعظم اسٹیفن ہارپر کی جماعت کی پارلیمنٹ میں اکثریت کی وجہ سے یہ قانون باآسانی منظور ہوجائے گا۔

موجودہ قانون کے تحت صرف ایک مخصوص حملے کی دھمکی ہی جرم ہے مگر نیا قانون انٹرنیٹ سمیت کسی بھی فورم پر کینیڈین شہریوں کے خلاف حملوں پر اکسانے کو قابلِ گرفت جرم بنادے گا۔

وزیر اعظم اسٹیفن ہارپرکا کہنا ہے کہ ’اب ہم اس کو اور برداشت نہیں کرینگے جیسے ہم ہوائی اڈوں پر بم دھمکیوں کے بارے میں مذاق کو بھی نہیں برداشت نہیں کر تے، جو کوئی بھی اس طرح کی حرکات میں ملوث ہوگا اس کے خلاف بھرپور قانونی کارروائی کی جائے گی۔‘

نئے قانون کے تحت زیادہ سے زیادہ قید کی سزا پانچ سال ہو گی۔

دوسری جانب ناقدین نے نئے قانون کو گمراہ کن قرار دیتے ہوئے حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

برٹش کولمبیا شہری حقوق کی تنظیم کے پالیسی ڈائریکٹر ’مائیکل وان‘ کا کہنا ہے کہ ’ اس قانون سے ہماری جمہوری آزادیوں پر قدغن لگے گی اس لیے یہ غیر آئینی قانون ہے۔‘

ملک کی دو اہم حزبِ اختلاف کی جماعتوں کا کہنا ہے کہ انھوں نے پارلیمنٹ میں پیش کیے گئے اس قانون کے مسودے کی حمایت یا مخالفت کا ابھی فیصلہ نہیں کیا ہے۔

نئے قانون کے تحت کسی بھی شخص کو دہشت گردی میں ملوث ہونے کے شبہ میں بغیر مقدمہ چلائے سات دن تک حراست میں رکھا جا سکے گا اور حکام کسی بھی ویب سائٹ پر دہشتگردی کی حمایت میں موجود مواد کو ہٹا سکیں گے۔

یاد رہے کہ پچھلے سال اکتوبر میں اوٹوا میں قومی جنگی یادگار اور پارلیمنٹ کی عمارات پر ایک مسلح شخص حملہ کیا تھا جس میں ایک فوجی مارا گیا تھا اور حکومت نے اس حملے کے بعد نئی قانون سازی کا وعدہ کیا تھا۔