’خوفزدہ سے زیادہ حیران تھا‘

کینیڈا میں پارلیمان پر حملے سے کچھ گھنٹے قبل ہی خطرے کا درجہ بڑھایا گیا تھا

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنکینیڈا میں پارلیمان پر حملے سے کچھ گھنٹے قبل ہی خطرے کا درجہ بڑھایا گیا تھا

کینیڈا کے دارالحکومت آٹوا میں پارلیمنٹ سمیت تین مقامات پر میں فائرنگ کے واقعے کے بعد ایک بڑی سکیورٹی کارروائی جاری ہے۔ حملے کے عینی شاہدین کا بی بی سی کو بتایا گیا آنکھوں دیکھا حال

ویٹر ایلیئن میریزیئر

پارلیمنٹ کی عمارت کے اندر کام کرنے والے ایک بیرے ایلیئن میریزیئر نے بدھ کو ہونے والا یہ حملہ اپنی آنکھوں سے دیکھا۔

وہ کہتے ہیں: ’میں پارلیمان کے اندر موجود کھانے کے کمرے میں کام کرنے جا رہا تھا جب میں نے پولیس کی گاڑی کا سائرن سنا اور مجھے لگا کہ یقیناً پارلیمان کے اندر کچھ ہوا ہے۔‘

ایلیئن میریزیئر نے بتایا کہ ایک سیاہ کار پارلیمان کی وسطی عمارت کے سامنے رکی جس کے ڈرائیور کے پاس ایک بڑی سی بندوق تھی۔ اور وہ تیزی سے بھاگتا ہوا عمارت کے داخلی راستے سے اندر چلا گیا۔ اس شخص کے فوراً بعد پارلیمان میں تعینات افسران تیزی سے بھاگتے ہوئے اس کے پیچھے گئے۔

ایلیئن میریزیئر کے مطابق حملہ آور بظاہر عرب لگ رہا تھا اور اس کے لمبے بال اور داڑھی تھی۔

ایلیئن میریزیئر نے مزید بتایا کہ ’پہلی گولی چلنے کی آواز کے ساتھ ہی میں نے اس کی گاڑی کی تصویر بنا لی۔‘

’میں خوفزدہ ہونے سے زیادہ حیران تھا۔ ایسی صورت حال میں آپ کو وقت ہی نہیں ملتا کہ آپ خوف زدہ ہوں۔‘

ایلیئن میریزیئر کا کہنا ہے کہ واقعے کے بعد اس ریستوران میں موجود ان کے ساتھی ملازمین کو وہیں اندر رہنے کو کہا گیا۔

فائرنگ کی آواز آتے ہی محافظوں نے اراکین پارلیمان کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنفائرنگ کی آواز آتے ہی محافظوں نے اراکین پارلیمان کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا

رکن پارلیمان جان مکئے

اس حملے کے وقت رکن پارلیمان جان مکئے بھی پارلیمان کی عمارت کے اندر تھے۔ انھوں نے بتایا کہ ’گولیاں چلنے کی آواز کے ساتھ ہی محافظوں نے ہمیں پارلیمان کی عمارت کے پچھلے حصے میں منتقل کر دیا۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’اس بارے میں تحقیقات کی جائیں گی کہ حملہ آور کس طرح پارلیمان کے مرکزی ہال تک بندوق سمیت آ پہنچا۔‘

’میں حیران ہوں کیوں کہ ایسی کوئی صورت حال ہم نے پہلے کبھی نہیں دیکھی۔‘

سینیٹر پرسی ڈاؤن

حملے کے وقت وہاں موجود سینیٹر پرسی ڈاؤن نے بی بی سی کو بتایا کہ جب انھوں نے موقعے پر موجود پولیس اہلکاروں کو بلٹ پروف جیکٹوں اور مشین گنوں کے ساتھ موقعے پر پہنچتے دیکھا تو انھیں معلوم تھا کہ خطرے کا درجہ بڑھایا گیا ہے۔

شہر میں عوامی مقامات کو بند کیے جانے کے بعد خوف کی فضا طاری ہو گئی

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنشہر میں عوامی مقامات کو بند کیے جانے کے بعد خوف کی فضا طاری ہو گئی

کینیڈا کے رکن پارلیمان ڈیوڈ مک گینیٹی

کینیڈا کے رکن پارلیمان ڈیوڈ مک گینیٹی نے بی بی سی کو بتایا کہ جب پارلیمنٹ کی عمارت، قریبی یونیورسٹی، پولیس کی عمارت اور امریکی سفارت خانے کو بند کر دیا گیا تو آٹوا میں بہت زیادہ خوف و ہراس پھیل گیا۔

مک گینیٹی کا کہنا تھا کہ کینیڈا کی پارلیمان کی سکیورٹی کمزور تھی۔ انھوں نے برطانوی پارلیمان کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں سکیورٹی پارلیمان کی عمارت کے باہر چیک کی جاتی ہے جبکہ کینیڈا میں ایسا نہیں ہے۔