کیا مغرب نے لیبیا کو تنہا چھوڑ دیا؟

ملک میں بے چینی پیدا کرنے کے لیے کئی مسلح گروہوں کی حمایت یافتہ دو مختلف حکومتیں ہی کافی ہیں لیکن در حقیقت یہاں دو مختلف خانہ جنگیاں جاری ہیں

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنملک میں بے چینی پیدا کرنے کے لیے کئی مسلح گروہوں کی حمایت یافتہ دو مختلف حکومتیں ہی کافی ہیں لیکن در حقیقت یہاں دو مختلف خانہ جنگیاں جاری ہیں
    • مصنف, مارک مارڈیل
    • عہدہ, میزبان، ورلڈ دِس ویک اینڈ

کیا میں لیبیا کے افق پر ایک نئی سحر ہوتے دیکھ رہا ہوں؟ کیا یہ ایک نیا وقار ہے؟

یا پھر ’سحر‘ اور ’وقار‘ اس تباہ کن تقسیم میں محض حُسن تعبیر ہی بنی رہے گی کیونکہ اس وقت ملک میں سحر اور وقار کے نام دو عسکری محاذ ایک ساتھ چل رہے ہیں۔

اگر حالیہ امن مذاکرات ناکام ہو جاتے ہیں تو لیبیا ایک گہری بے لگام خانہ جنگی میں دھنس جائے گا۔

حالات یہ ہیں کہ لیبیا کے ارد گرد دولتِ اسلامیہ کا بڑھتا ہوا اثر و رسوخ بھی بے چینی کا سبب بن رہا ہے۔

جہادیوں کی شام سے واپسی پر یورپ میں بھی تشویش بڑھ رہی ہے اور بحیرۂ روم کے پانیوں پر نظر رکھی جا رہی ہے اور یہ فکر لاحق ہے کہ آگے کیا ہوگا؟

اپنے پیشرو کے بِن غازی میں قتل کے بعد مالٹا میں مقیم لیبیا کے لیے امریکہ کی سفیر ڈیبورا جانز نے مجھے بتایا ’لیبیا کے لوگ ہمیشہ ہی اپنی سلامتی اور وسائل کی حفاظت کرتے رہے ہیں اور یہ بات انہیں باور کروانا ضروری ہے تاکہ وہ متحد ہو کر ان لوگوں کو باہر نکالیں جو 17 فروری کے انقلاب کے بعد ان کے وسـائل کو ضائع کرنا چاہتے ہیں اور ان کے کچھ دوسرے عزائم ہیں۔‘

وہ کہتی ہے کہ ایک سفارتکار کی حیثیت سے وہ جنیوا میں امن مذاکرات کے لیے پر امید ہیں۔ گو کہ یہ سیاسی بات چیت ہو گی لیکن اس میں امید کا عنصر قائم ہے۔

اقوامِ متحدہ اور یورپی یونین کی جانب سے منعقد کردہ مذاکرات میں کافی پیش رفت ہوئی تھی اور ان کے جاری رہنے کا امکان ہے۔

لیبیا میں دونوں مرکزی فریقین نے جنگ بندی کا اعلان کر رکھا ہے۔ لیکن مایوسی بھی دیکھی جا سکتی ہے کیونکہ خانہ جنگی میں ملوث ایک فریق تو جینوا گیا ہی نہیں اور جنیوا مذاکرات کی شروعات بھی خانہ جنگی سے متعلق واقعات کو نہیں روک سکے کیونکہ ایسے میں ملک میں ایسی خبریں سامنے آ رہی ہیں کہ طرابلس میں ایک سپر مارکیٹ کو آگ لگا دی گئی، تیل کی صنعت سے وابستہ ایک اعلیٰ اہلکار اغوا ہو گئے، لڑائی جاری ہے اور ایسے میں ایک فریق کا کہنا ہے کہ مذاکرات محفوظ سوئٹزلینڈ کی بجائے ان کی اپنی سرزمین پر ہونے چاہیں، اور یہ سب واقعات ایک ہی دن رونما ہوئے۔

لیبیا کے شہر تبروک کے ایک ماہر تعلیم نے اپنے شہر میں زندگی کی مایوس کن تصویر کشی یوں کی۔

’تاریکی، بغیر انٹرنیٹ، پیٹرول اور خوراک کی قلت۔‘ان کا کہنا ہے کہ ایسا اس لیے ہوا کے قذافی کے بعد جمہوریت جڑ ہی نہیں پکڑ سکی۔

’لیبیا میں قانونی بحران ہے اور لوگ جمہوریت کو صرف اسی صورت میں قبول کرنے کو تیار ہیں جب ان کی فتح ہو۔ لوگ قانون کی بالادستی اسی صورت میں قبول کرنے پر راضی ہیں جب وہ ان کے حق میں ہو۔‘

’اسے لیے ہمارے ملک میں دو حکومتیں قانون کے نفاذ کے لیے لڑ رہی ہیں۔ ہمارے دو پارلیمان ہیں، دو وزیرِ اعظم ہیں، انہی کی وجہ سے مسلح گروہوں کو اتنی گنجائش ملی کہ وہ پنپ سکیں اور اثر انداز ہو سکیں۔‘

’پریشان کن بات یہ ہے کہ دولتِ اسلامیہ اور انصار الشریعہ جیسی دہشت گرد تنظیمیں ملک میں اس صورتحال سے فائدہ اٹھا رہی ہیں۔‘

دو طرح کی خانہ جنگی :

شاید کسی بھی خانہ جنگی میں اچھے اور برے افراد کا تعین سادہ کام ہو لیکن لیبیا میں ایسا کرنا انتہائی کٹھن ہے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنشاید کسی بھی خانہ جنگی میں اچھے اور برے افراد کا تعین سادہ کام ہو لیکن لیبیا میں ایسا کرنا انتہائی کٹھن ہے

ملک میں بے چینی پیدا کرنے کے لیے کئی مسلح گروہوں کی حمایت یافتہ دو مختلف حکومتیں ہی کافی ہیں لیکن درحقیقت یہاں دو مختلف خانہ جنگی جاری ہیں۔

مشرق میں اسلامی جنگجو برسرِ پیکار ہیں جبکہ مغرب میں زیادہ وسیع جھڑپیں ہیں۔

ڈاکٹر گوما الگماتہ ایک طویل عرصے سے لیبیا میں جمہوریت کے قیام کے لیے مہم چلا رہے ہیں۔ 30 برس قببل وہ لیبیئن پیپلز بیورو کے باہر احتجاج کر رہے تھے جب اندر سے آنے والے ایک گولی نے ایک خاتون پولیس اہلکار کی جان لے لی۔

لیبیا میں انقلاب کے بعد انھیں لیبیا کی عبوری حکومت کے ساتھ بات چیت کے لیے برطانیہ کی جانب سے معاون مقرر کیا گیا۔

انھوں نے مجھے بتایا کہ ان دونوں گروہوں کے پیچھے کیا ہے: ’آپریشن ڈگنیٹی (وقار کے لیے لڑائی) کی قیادت ریٹائرڈ جنرل خلیفہ خفتار کر رہے ہیں جو 45 سال قبل قذافی کے دوست تھے جب انھوں نے اقتدار سنبھالا تو وہ الگ ہو گئے۔‘

’وہ 20 سال قبل فرار ہو گئے تھے اور اب پھر سے اقتدار حاصل کرنا چاہتے ہیں۔‘

’ان کا موقف ہے کہ وہ دہشت گردوں سے لڑ رہے ہیں لیکن ان تمام لوگوں کو تباہ کرنا چاہتے ہیں جو ان کی مخالفت کرتے ہیں جو درحقیقت دہشت گردی کے خلاف جنگ نہیں بلکہ ان کی خواہش کا بزورِ طاقت اطلاق ہے۔‘

’ایسے لوگ ان کی مخالفت کرتے ہیں کیونکہ ان کے خیال میں وہ لوگوں کو پھر سے آمریت اور فوجیوں کی حکومت کے دور میں واپس لے جانا چاہتے ہیں۔‘

یہ وہ پہلو ہے جو مغربی حکومتیں مانتی ہیں یعنی جو ان کی مخالفت کرتا ہے وہ دہشت گرد یا شدت پسند ہے۔

ڈاکٹر الگماتے کا کہنا ہے کہ یہ اتنا سادہ نہیں ہے۔

’دوسرا فریق ’لیبیا ڈان‘ (لیبیا کی سحر) مختلف شہروں اور قصبوں سے تعلق رکھنے والے ملیشیا کا اتحاد ہے جن میں بعض اسلامی تصورات کے حامی ہیں اور بعض نہیں۔‘

’ ان کا کہنا ہے کہ وہ ایک اور انقلاب چلا رہے ہیں جو جنرل کے خلاف ہے جو انھیں آمریت اور استحصال کی دنیا میں واپس لے جانا چاہتے ہیں۔‘

شاید کسی بھی خانہ جنگی میں اچھے اور برے افراد کا تعین سادہ کام ہو لیکن لیبیا میں ایسا کرنا انتہائی کٹھن ہے۔

سادہ موقف کا نہ ہونا

میٹ وین ڈیکے ایک امریکی دستاویزی فلمساز ہیں اور انقلابی ہیں۔ انھوں نے اپنا کیمرہ چھوڑ کر بندوق اٹھائی اور قذافی حکومت کے خلاف لڑائی کی۔ ان کا کہنا ہے کہ ماضی کا اتحاد مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے۔

’میں نے سنہ 2008 بہت سے اچھے دوست بنائے اور جب انقلاب شروع ہوا تو میں نے قذافی کا تختہ الٹنے کے لیے اپنے دوستوں کے انقلاب کا ساتھ دیا۔وہ سب ہی انقلاب کے بعد کے لیبیا پر مایوس ہیں۔‘

’لیکن حالیہ لڑائی کے دونوں فریقین میں میرے دوست ہیں۔ بعض کا خیال ہے کہ وہ قذافی کے حامی عناصر سے لڑ رہے ہیں، بعض کا خیال ہے کہ وہ اسلامی شدت پسندوں سے لڑ رہے ہیں اور دونوں کا خیال ہے کہ وہ حق پر ہیں۔‘

’ذاتی طور پر میرا خیال ہے کہ دونوں ہی غلط ہیں۔‘

یہ لیبیا اس صورتحال سے بہت دور معلوم ہوتا ہے جب سنہ 2011 میں برطانوی وزییراعظم ڈیوڈ کیمرون نے بن غازی کے دورے میں کہا تھا کہ آپ لوگ دنیا کے لیے مثال ہیں۔

آخر کار سکیولر آمر کا اقتدار ختم کرانے کے لیے مغرب نے مداخلت کی، یہاں کیا غلط ہو سکتا ہے؟

امریکی سفیر کے بن غازی میں قتل کے بعد سے بعض مغربی حکومتیں لیبیا کے لوگوں سے مایوس ہیں۔

میٹ وین ڈیکے کے بقول ’جب انقلاب ختم ہوا تو مغرب پلٹ گیا اور لیبیائی باشندوں کو ان کے حال پر چھوڑ دیا۔ ‘

’لیکن لیبیا کے لوگوں کو اکیلا نہیں چھوڑا جا سکتا کیونکہ انھیں یہ نہیں معلوم کہ متحد کیسے ہونا ہے اور اتفاقِ رائے کیسے پیدا کرنا ہے اور ایک نئی ریاست کیسے بنانی ہے؟‘

’ہم نے ایک ایسا لیبیا بنایا جس میں کوئی ادارہ نہیں، کوئی آئین نہیں، ملک چلانے کی کوئی مہارت نہیں اور ایسے میں عالمی برادری سب چھوڑ چھاڑ کر چلی گئی۔‘

’یہ ایک غلطی تھی، وہ اب واپس آ رہے ہیں کیونکہ انھیں احساس ہو گیا ہے کہ وہ لیبیا کو نظر انداز کرنے کے متحمل نہیں ہو سکتے۔‘

برطانیہ میں لیبیا کی حامی کنزرویٹو ممبر پارلیمان ڈینیل کوچینسکی جنھوں نے لیبیا میں فوجی آپریشن کی حمایت کی تھی، کہتے ہیں کہ یہ ایک صحیح فیصلہ تھا۔

’گو کہ میں اس بات پر کافی مایوس ہوں کہ ہم معمول کی صورتحال اور سلامتی کے فضا پیدا کرنے میں لیبیا کے لوگوں کی مدد نہیں کر پائے۔‘

سینکڑوں نئے قذافی

یہ لیبیا اس صورتحال سے بہت دور معلوم ہوتا ہے جب سنہ 2011 میں ڈیوڈ کیمرون نے بن غازی کے دورے میں کہا تھا کہ آپ لوگ دنیا کے لیے مثال ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنیہ لیبیا اس صورتحال سے بہت دور معلوم ہوتا ہے جب سنہ 2011 میں ڈیوڈ کیمرون نے بن غازی کے دورے میں کہا تھا کہ آپ لوگ دنیا کے لیے مثال ہیں

ان کا کہنا ہے کہ ان کے ایک دوست کے بقول انھوں نے ایک قذافی سے جان چھڑائی لیکن سینکڑوں نئے قذافی پیدا کر دیے۔

ان کے خیال میں مسئلہ یہ ہے کہ سیاست دان اگلے بحران میں چلے گئے ہیں۔

مجھے بہت زیادہ امید ہے کہ وزیراعظم فرائض اور ذمہ داریوں کو نہیں بھولیں گے، اس میں مداخلت کریں گے اور ٹیکس ادا کرنے والی کے سینکڑوں ملین ڈالر کی رقم خرچ کریں گے۔

لیبیا میں امریکہ کے سفیر ڈیبرا جونز کا کہنا ہے کہ مذاکرات ہی مسئلے کا حل ہے۔

’ہم ایک ایسے مقام پر پہنچ چکے ہیں جہاں ہمارے پاس موجود آپشنز میں سنجیدگی سے مذاکرات ہی ہیں اور یا ہمیں خطرناک خانہ جنگی اور تقسیم ہونے کا خطرہ لاحق ہو گا۔‘

’میں نے اس رائے کو رد کیا ہے کہ مغرب نے منہ موڑ لیا ہے، محض فوجی کارروائیاں کافی نہیں ہیں اور لیبیا میں زیادہ فوجی طاقت کے استعمال سے سیاسی اتفاق رائے کے حوالے سے لاحق بنیادی مسائل حل نہیں ہوں گے اور یہ سبق ہے جس کو سیکھنے کی ضرورت ہے۔‘

اوباما انتظامیہ کے خیال میں عراق اور افغانستان کے تجربے سے معلوم ہوتا ہے کہ نو آبادیاتی نظام میں تباہ حال ممالک میں تعمیرنو مغرب کی صلاحیت سے باہر ہے تاہم اس سے دوسروں کی یہ رائے کمزور نہیں ہوتی ہے کہ قتل عام کو روکنا اخلاقی ذمہ داری ہے اور ناکام ریاستیں باقی دنیا کے لیے خطرے کا باعث ہیں۔

برطانیہ، فرانس اور امریکہ کی خارجہ پالیسی جنگوں سے دور رہنے اور امن قائم رکھنے میں درکار مشکلات کے درمیان پھنس کر رہ گئی ہے اور اس میں ایک لیبیا ہے جہاں پر اس کی عکاسی ہوتی ہے۔