لیبیا کے شہر سے 13 مصری قبطی عیسائی اغوا

،تصویر کا ذریعہ
شمالی لیبیا میں ماسک پہنے ہوئے مسلح افراد نے مصر کے 13 قبطی عیسائیوں کو اغوا کر لیا ہے۔اس سے قبل اسی علاقے سے گذشتہ ہفتے ہی سات دوسرے لوگوں کو اغوا کیا گیا تھا۔
لیبیا کے شہر سرت میں عینی شاہدین نے بتایا کہ مشتبہ اسلام پسند جنگجو رات گئے ایک رہائشی احاطے میں داخل ہوئے اور انھوں نے لوگوں سے شناختی کارڈ دکھانے کے لیے کہا۔
اس کے بعد عینی شاہدین کے مطابق اغوا کرنے سے قبل عیسائیوں کو مسلمانوں سے علیحدہ کر دیا گیا اور ان کے ہاتھ باندھ دیے گئے۔
لیبیا میں مصر کے عیسائیوں کا اغوا قبطی عیسائیوں پر تازہ حملہ ہے۔
ایک عینی شاہد نے بتایا کہ 15 نقاب پوش بندوق بردار رہائشی عمارت میں سنیچر کی رات تقریبا ڈھائی بجے ایک کمرے سے دوسرے کمرے میں جا رہے تھے۔
مقامی عینی شاہد حنا عزیز نے خبررساں ادارے اے پی کو بتایا کہ ’ان کے پاس اس عمارت میں رہنے والے عیسائیوں کی مکمل فہرست تھی۔ شناختی کارڈ کو دیکھنے کے بعد مسلمانوں کو علیحدہ کردیا گیا اور عیسائیوں کو پکڑ لیا گيا۔‘

،تصویر کا ذریعہ
حنا کا کہنا ہے کہ وہ اس لیے بچ گئے کہ انھوں نے اپنے دوستوں کے چیخنے کی آواز سن لی تھی اور انھوں نے اپنا دروازہ نہیں کھولا۔ انھوں نے کہا: ’میں ابھی بھی اپنے کمرے میں ہوں۔ ان کا انتظار کر رہا ہوں کہ وہ آئیں اور ہمیں لے جائیں۔ میں ان کے ساتھ مرنا چاہتا ہوں۔‘
اطلاعات کے مطابق جتنے لوگوں کو لے جایا گیا ہے وہ سب کے سب مرد تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس سے قبل گذشتہ ہفتے سات قبطی عیسائیوں کو سرت شہر میں ایک نقلی چیک پوائنٹ سے اغوا کر لیا گیا تھا، جب وہ شہر چھوڑ کر جانے کی کوشش کر رہے تھے۔
اس سے قبل دسمبر کے اوائل میں ایک مصری قبطی عیسائی ڈاکٹر کے گھر پر حملہ کیا گیا تھا جس میں ڈاکٹر اور اس کی اہلیہ ہلاک ہوگئے تھے۔ مقامی نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ان کی بیٹی کا اغوا کر لیا گیا تھا لیکن بعد میں اس کی بھی لاش ملی۔
واضح رہے کہ لیبیا میں بڑی تعداد میں مصری قبطی عیسائی اور مسلمان آباد ہیں اور یہ افراد زیادہ تر تعمیراتی شعبے میں کام کرتے ہیں۔







