مصر میں عورتوں کےجنسی اعضاء کاٹنے پر ڈاکٹر کو پہلی بار سزا

سنہ 2013 میں سرجری کروانے کے بعد سہیر انتقال کر گئیں۔

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشنسنہ 2013 میں سرجری کروانے کے بعد سہیر انتقال کر گئیں۔

ایک مہم چلانے والی گروہ کا کہنا ہے کہ ایک تاریخی کیس میں ایک مصری ڈاکٹر کو خواتین کے جنسی اعضاء کاٹنے پر سزا سنائی گئی ہے۔

راسلان فضل پر غیر ارادی قتل کے جرم میں تین ماہ قید با مشقت اور جرمانے کی سزا سنائی گئی ہے۔

ڈاکٹر نے تیرہ سالہ سوہیر ال باتہ کے جنسی اعضاء کاٹنے کے الزام کی تردید کی تھی۔

بین الاقوامی سرگرم گروہ ’ایکویلٹی ناؤ‘ کے ایک ترجمان نے اس فیصلے کو ایک ’تاریخی فتح‘ قرار دیا ہے۔

سوہیر ال باتہ منصورہ کے شہر میں دریائے نیل کے ڈیلٹا کے قریب ایک چھوٹی کرشک برادری میں رہتی تھیں اور سنہ 2013 میں انتقال کرگئیں۔

استغاثہ وکلاء کا کہنا تھا کہ سوہیر کی موت ان کے جنسی اغضاء کٹوانے کے بعد ہوئی جس کے ذمہ دار ان کے والد تھے۔ ان کے والد کے خلاف بھی مقدمہ درج گیا تھا اور پیر کے دن انھیں بھی سزا سنائی گئی تھی۔

ایک ابتدائی مقدمے میں ڈاکٹر اور والد دونوں کو بری کر دیا گیا تھا۔

سنہ 2008 میں مصر میں جنسی اعضاء کاٹنے کے عمل پر پابندی عائد کر دی گئی تھی لیکن یہ عمل اب بھی عام ہے۔ مصر دنیا کے ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں عورتوں کے جنسی اعضا کاٹنے کی پریکٹس سب زیادہ ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 50 سال کی عمر سے کم خواتین میں 90 فیصد اس عمل کا شکار بنی ہیں۔

یہ اب تک واضح نہیں ہوا کہ اس عمل کی وجہ سے کتنی مصری خواتین انتقال کر چکی ہیں کیونکہ اکثر ان کی اموات کے ریکارڈ میں لکھا جاتا ہے کہ وہ زیادہ خون بہنے یا پینسلین سے الرجک رد عمل ہونے کی وجہ سے فوت ہوئی ہیں۔