مرسی کے78 حامیوں کو جیل بھیج دیا گیا

مصری حکومت کی جانب سے سابق صدر محمد مرسی کے حمایتیوں کے خلاف کی جانے والی کارروائیوں میں اب تک 1,400 افراد کو ہلاک اور 15,000 سے زائد کو گرفتار کیا جا چکا ہے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنمصری حکومت کی جانب سے سابق صدر محمد مرسی کے حمایتیوں کے خلاف کی جانے والی کارروائیوں میں اب تک 1,400 افراد کو ہلاک اور 15,000 سے زائد کو گرفتار کیا جا چکا ہے

مصر میں ایک عدالت نے سابق صدر محمد مرسی کے 78 نوجوان حمایتیوں کو اخوان المسلمین کے ہمراہ مظاہرے کرنے پر پانچ سال کے لیے جیل بھیج دیا ہے۔

جیل بھیجے جانے والے 78 نوجوانوں کی عمریں 13 سے 17 سال تک بتائی جا رہی ہیں۔

یہ نوجوان مصر کے سابق صدر محمد مرسی کی بحالی کا مطالبہ کر رہے تھے۔

مصر کے سرکاری میڈیا کے مطابق ان نوجوانوں کو ’مظاہروں میں شرکت کرنے اور ریاست کے خاتمے کا مطالبہ کرنے پر‘ گرفتار کیا گیا تھا۔

ان نوجوانوں کے وکیل ایمن الضبی کا کہنا ہے کہ ان میں کچھ لڑکے مظاہرہ نہیں کر رہے تھے تاہم وہ ’غلط جگہ‘ پر تھے۔

خیال رہے کہ مصری حکومت نے بدھ کو انسدادِ دہشت گردی کے ایک مسودے کی منظوری دی ہے جس کے تحت حکام کو حزبِ مخالف گروہوں کے خلاف کارروائی کے لامحدود اختیارات حاصل ہو گئے ہیں۔

مصری حکومت کی جانب سے سابق صدر محمد مرسی کے حمایتیوں کے خلاف کی جانے والی کارروائیوں میں اب تک 1,400 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جب کہ 15,000 سے زائد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

اس سال مارچ میں حکام نے ایک مقدمے میں محمد مرسی کے 528 حمایتیوں کو پھانسی کی سزا سنائی تھی۔

مصر کے فوجی حکام سنہ 2013 میں سابق صدر محمد مرسی کو ان کے عہدے سے معزول کرنے کے بعد سے اسلام پسندوں کے خلاف کارروائی کر رہے ہیں۔

مصر میں اخوان المسلمین کو دہشت گرد جماعت قرار دینے کے بعد سے ان کے ہزاروں حمایتی مارے جا چکے ہیں۔