تیونس انتخابات میں الباجی قائد ایسبسی فاتح

مرزوقی نے شکست تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنمرزوقی نے شکست تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے

مغربی افریقہ کے مسلمان ملک تیونس کے پہلے آزادانہ صدارتی انتخابات میں الباجی قائد ایسبسی کو باضابط سرکاری نتائج میں کامیاب قرار دے دیا گیا ہے۔

تیونس کے الیکشن کمیش نے اعلان کیا ہے الباجی قائد ایسبسی نے ان انتخابات میں 55.68 فیصد ووٹ حاصل کیے جب کہ ان کے مدِمقابل منصف مزروقی کو 44.32 فیصد ووٹ ملے۔

قبل ازیں اڑسٹھ سالہ مزروقی نے انتخابی نتائج تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

88 سالہ الباجی قائد ایسبسی نے جو ایک منجھے ہوئے سیاست دان ہیں انھوں نے تیونس کے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ متحدہ ہو کر ملک میں استحکام کے لیے کام کریں۔

ان کے ناقدین کا کہنا ہے کہ الباجی قائد ایسبسی کی فتح سے ایک مرتبہ پھر ملک میں ماضی میں آزمائی ہوئی ناکام انتظامیہ واپس آ گئی ہے۔

السبسی نےگذشتہ ماہ ہونے والے پہلے مرحلے کے انتخابات میں 39 فی صد ووٹ حاصل کیے تھے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنالسبسی نےگذشتہ ماہ ہونے والے پہلے مرحلے کے انتخابات میں 39 فی صد ووٹ حاصل کیے تھے

ناقدین کا اشارہ اس نکتے کی طرف ہے کہ سابق صدر زین العابدین بی علی جنھیں سنہ 2011 میں عوامی انقلاب کے بعد ملک چھوڑنا پڑا تھا السبسی ان کے ماتحت بھی کام کر چکے ہیں۔

الباجی قائد ایسبسی تیونس کی آزادی کے بعد جبیب بو رقیبہ کی قیادت میں بننے والی پہلی حکومت میں بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔

انتخابات کے سرکاری نتائج سے قبل ہی دارالحکومت تیونس میں 88 سالہ الباجی قائد ایسبسی کے حامیوں نے جشن منانا شروع کر دیا تھا۔

تاہم ان کے حریف اور ملک کے نگراں صدر منصف مرزوقی کے حامیوں کا کہنا ہے کہ انتخابات اتنے کانٹے کے تھے کہ نتائج کے بارے میں حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا۔

عبوری صدر مرزوقی نے کہا: ’جیت کا اعلان غیر جمہوری ہے۔ اگر ہم واقعی جمہوری ملک ہیں اور قانون کی پاسداری کرتے ہیں تو ہمیں انتظار کرنا چاہیے۔

ایک ایگزٹ پولز میں کہا گیا ہے کہ السبسی کو 55.5 فی صد ووٹ ملے ہیں

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنایک ایگزٹ پولز میں کہا گیا ہے کہ السبسی کو 55.5 فی صد ووٹ ملے ہیں

’ہم آپ کو یہ کہنا چاہتے ہیں کہ ہم فاتح رہے، ہم فاتح ہیں ہم فتح یاب ہوئے۔ تیونس نے جیت حاصل کی ہے اور آپ کامیاب ہوئے ہیں۔ آپ نے تیونس کے لیے، جمہوریت کے لیے اور انسانی حقوق کے لیے جیت حاصل کی ہے۔‘

ناقدین کا کہنا ہے کہ الباجی قائد ایسبسی کی کامیابی کا مطلب بدنام نظام کی واپسی ہے جبکہ الباجی قائد کا کہنا ہے کہ وہ ٹیکنوکریٹ ہیں اور ملک میں استحکام لائیں گے۔

واضح رہے کہ تیونس پہلا ملک تھا جس نے اپنے رہنما کو حکومت سے ہٹا کر خطے میں بغاوت کی ہوا چلائی تھی جسے ’عرب سپرنگ‘ کا نام دیا گیا تھا۔

السبسی کے حامیوں نے دارالحکومت تیونس میں جشن منایا

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنالسبسی کے حامیوں نے دارالحکومت تیونس میں جشن منایا

تیونس میں انتخابات کے پیش نظر سکیورٹی کے انتظامات سخت کیے گئے تھے اور لیبیا کی سرحد کو بند کر دیا گيا تھا۔

اتوار کو کم از کم تین افراد پر مشتمل ایک حملہ آور گروہ نے کیروان شہر کے پاس ایک پولنگ سٹیشن کو نشانہ بنایا۔

سکیورٹی فورسز کا کہنا ہے کہ اس نے ایک حملہ آور کو ہلاک جبکہ تین افراد کو گرفتار کیا۔

جیت کا جشن مناتے تیونس باشندے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنجیت کا جشن مناتے تیونس باشندے

اتوار کو ووٹ ڈالنے کے عمل کے اختتام پر الباجی قائد ایسبسی نے ایک مقامی ٹی وی چینل پر کہا: ’میں اپنی کامیابی کو تیونس کے شہیدوں کے نام کرتا ہوں۔‘

انھوں نے مزید کہا: ’میں مرزوقی کا شکریہ ادا کرتا ہوں اور کسی کو بھی علیحدہ کیے بغیر اب ہم دونوں مل کر کام کریں گے۔‘

88 سالہ الباجی قائد ایسبسی معزول صدر زین العابدین کی حکومت کا حصہ بھی رہ چکے ہیں اور ان انتخابات میں سیکیولر جماعت ندا تیونس (صدائے تیونس) کی نمائندگی کر رہے ہیں۔

مرزوقی تیونس کے عبوری صدر ہیں

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنمرزوقی تیونس کے عبوری صدر ہیں

ان کے مخالف 67 سالہ منصف مرزوقی سنہ 2011 سے عبوری صدر ہیں۔

مرزوقی انسانی حقوق کے کارکن ہیں اور سابقہ حکومت کے دور میں وہ جلاوطنی اختیار کرنے پر مجبور ہو گئے تھے۔

الباجی قائد ایسبسی نے گذشتہ ماہ ہونے والے پہلے مرحلے کے صدارتی انتخابات میں 39 فی صد ووٹ حاصل کیے تھے۔