تیونس: عرب سپرنگ کی کامیاب مثال

،تصویر کا ذریعہ
تیونس وہ پہلا ملک تھا جہاں سے دنیائے عرب میں چلنی والی تبدیلی کی لہر جسے عرب سپرنگ کے نام یاد کیا جاتا ہے، جنم لیا۔تیونس میں 26 اکتوبر کو پارلیمانی انتخابات ہو رہے ہیں۔
سنہ 2011 میں تیونس کے لوگوں نے صدر زین العابدین بن علی کو ملک چھوڑنے پر مجبور کیا۔ تیونس میں آنے والی تبدیلی نے تھوڑے ہی عرصے پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور مصر، لیبیا، یمن اور شام میں ایسی ہی تحریکوں نے جنم لیا۔
تیونس واحد ملک ہے جہاں عرب سپرنگ کے دوران آنے والی تبدیلی پائیدار ثابت ہوئی ہے۔ ان انتخابات میں سابق حکومت کا حصہ رہنے والے افراد بھی حصہ لینے کے اہل ہیں۔
شاید اسی لیے تیونس کے صدر منصف المزروقی نے ان انتخابات کو انقلاب کے حامیوں اور انقلاب مخالفوں کے درمیان مقابلہ قرار دیا ہے۔
تیونس میں انتخابات متناسب نمائندگی کے اصول پر ہوتے ہیں جہاں سیاسی جماعتیں ووٹوں کے تناسب سے امیدواروں کی فہرستوں کا تعین کرتی ہیں اور ملک کے ہر خطے کو نمائندگی حاصل ہے۔ اس سارے انتخابی عمل کی نگرانی آزاد اعلیٰ اختیاراتی الیکشن کمیشن کرتا ہے۔
کیا عورتوں کے حقوق کا تحفظ ہو رہا ہے؟

،تصویر کا ذریعہ
تیونس کے آزاد الیکشن کمشن کے مطابق نئے رجسٹر ہونے والے ووٹروں میں خواتین ووٹروں کا تناسب 49 فیصد ہے۔ جنوری 2014 میں تیونس نے اپنی انتخابی اصلاحات کا اعلان کیا جن کے مطابق انتخابی عمل میں مردوں اور عورتوں کی نمائندگی میں توازن پیدا کیاگیا ہے۔ نئے قوانین کی روشنی میں انتخالی فہرستوں میں عورت اور مرد ووٹروں کا تناسب برابر ہونا چاہیے۔
کس کے جیتنے کے امکانات ہیں؟

،تصویر کا ذریعہ
تیونس میں انتخابی مہم کے دوران انتخابی جائزوں کی اجازت نہیں ہے۔ لیکن اس کے باوجود سیاسی تجزیہ نگاروں کا خیال میں کسی جماعت کو واضح برتری حاصل نہیں۔
البتہ تجزیہ نگاروں کےمطابق اسلام پسند ’حركت النہضہ‘ اور ان کےلبرل حریف ’نداء تونس‘ کے جیتنے کے امکانات زیادہ ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس کے علاوہ سیکیولر جماعتیں، کانگریس فار رپبلک اور سیکیولر ڈیموکریٹک فورم اور سابق صدر زین العابدین بن علی کے سابق اہلکار بھی مقابلے میں حصہ لے رہے ہیں۔
زیادہ امیدواروں کا دعویٰ ہے کہ انتخابی مہم کا محور ملکی معیشت ہے۔ امیدواروں کا خیال ہے کہ ملک میں انقلاب آنے کی بڑی وجہ خراب معیشت تھی۔
ملک کی بڑی سیاسی جماعتیں کون سی ہیں؟

،تصویر کا ذریعہ
حركت النہضہ نے 2011 کے انتخابات میں 217 میں 89 سیٹوں پر کامیابی حاصل کی تھی۔ حركت النہضہ نے دوسری جماعتوں کے ساتھ اتحاد بنانے پر رضامندی ظاہر کرنے کے باوجود النہضہ نے کبھی بھی مکمل سیاسی غلبہ حاصل کرنے کی خواہش کو نہیں چھپایا۔
نداء تونس کی کوشش ہے کہ وہ قوم پرستوں اور لبرل طبقوں کی حمایت حاصل کرے تاکہ حركت النہضہ کا سیاسی اثر کم ہو سکے۔ نداء تونس کی بنیاد سابق وزیر اعظم بی جی سید اسبسی نے رکھی تھی۔ اس جماعت کو تیونس کی لیبر یونین اور کچھ بزنس گروپوں کی حمایت حاصل ہے۔
نداء تونس کا کہنا ہے کہ وہ اسلام پسند حركت النہضہ سے، جس کے اخوان المسلمین کے ساتھ تعلقات ہیں، کبھی اتحاد نہیں بنائے گی۔
کانگریس فار رپبلک (سی پی آر) کی سربراہی نگران صدر مرزوقی کے پاس ہے۔ اس جماعت نے گذشتہ انتخابات میں 29 سیٹیں حاصل کی تھیں۔ اس کے علاوہ سابق قومی اسمبلی کے سپیکر مصطفیٰ بن جعفر کی جماعت ڈیموکریٹک فورم فار لیبر اینڈ لبرٹیز گذشتہ انتخابات میں 20 نشستیں جیتی تھیں۔
کیا مسلح شدت پسند انتخابات کو سبوتاژ کریں گے؟

،تصویر کا ذریعہ
القاعدہ سے منسلک اسلامی شدت پسند تنظیم عقبہ ابن نافع بٹالین نے دھمکی دی ہے کہ وہ ان انتخابات کو نہیں ہونے دیں گے۔ عقبہ ابن نافع بٹالین تیونس اور الجزائر کے سرحدی علاقوں میں متحرک ہے۔
تیونس کے وزیر داخلہ لطفی بن جدو نے کہا ہے کہ عقبہ ابن نافع بٹالین کی دھمکی تشویش ناک ہے اور حکومت شدت پسندوں کے خطرے سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے اور 50 ہزار سکیورٹی اہلکار اور 20 ہزار فوجی انتخابات کو پرامن ماحول میں منعقد کروانے کے لیےتیار ہیں۔







