تیونس میں صدارتی انتخابات کا دوسرا مرحلہ

انتخابات کو جمہوریت کی طرف ایک تاریخی پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنانتخابات کو جمہوریت کی طرف ایک تاریخی پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے

تیونس کے عوام ملک کے پہلے آزادانہ انتخابات میں صدر کا انتخاب کر رہے ہیں اور ان دوسرے دور کے انتخابات کو جمہوریت کی طرف ایک تاریخی پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے۔

گذشتہ ماہ ہونے والے انتخابات کے پہلے دور میں کوئی بھی امیدوار 50 فیصد سے ذیادہ ووٹ نہیں لے سکا تھا، لہذاٰ اب انتخابات کے دوسرے دور میں ووٹنگ ہو رہی ہے۔

39 فیصد ووٹوں کے ساتھ پہلا مرحلہ جیتنے والےالباجی قائد ایسبسی کا مقابلہ عبوری حکومت کے رہنماہ منصف مرزوقی سے ہوگا۔

88 سالہ ایسبسی معزول صدر زین العابدین کی حکومت کا حصہ بھی رہ چکے ہیں اور ان انتخابات میں سیکولر جماعت ندا تیونس (صدائے تیونس) کی نمائندگی کر رہے ہیں۔

ان کے مخالف 67 سالہ منصف مرزوقی 2011 سے عبوری صدر ہیں۔ مرزوقی انسانی حقوق کے کارکن ہیں اور سابقہ حکومت کے دور میں وہ جلاوطنی اختیار کرنے پر مجبور ہو گئے تھے۔

ایسبسی کے برعکس منصف مرزوقی کو اسلام پسندوں کی حمایت حاصل ہے۔

ووٹنگ کا سلسلہ صبح سویرے سے جاری ہے اور لوگ گرم جوشی سے اس میں حصہ لے رہے ہیں۔ ایک 65 سالہ ووٹر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوے کہا کہ ’مجھے ووٹ ڈالنے پر صرف فخر نہیں بلکہ بہت فخر ہے۔ آمریت کے دور میں ہمیں کبھی یہ موقع نہیں ملا۔‘

ندا تیونس پارٹی کے رہنما مسٹر ایسبسی کی کامیابی کے بارے میں زیادہ امید ظاہر کی جا رہی ہے۔ دو سال قبل وجود میں آنے والی یہ پارٹی پارلیمانی انتخابات میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پہلے نمبر پر رہی تھی۔

ندا تیونس پارٹی کے رہنما مسٹر ایسبسی کی کامیابی کے بارے میں زیادہ امید ظاہر کی جا رہی ہے

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنندا تیونس پارٹی کے رہنما مسٹر ایسبسی کی کامیابی کے بارے میں زیادہ امید ظاہر کی جا رہی ہے

تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ الباجی قائد ایسبسی ماضی کی جانب واپسی کی نمائندگی کرتے ہیں کیونکہ وہ بن علی کی حکومت میں عہدیدار تھے اور آزادی کے بعد حبیب برقوبہ کی حکومت میں بھی شامل تھے۔

یاد رہے کہ یہ انتخابات ان سیاسی تبدیلیوں کا حصہ ہیں جو انقلاب کے نتیجے میں ملک کے حکمران زین العابدین کے ہٹائے جانے کے بعد ملک میں شروع ہوئی تھیں۔ اسی سلسلے میں اکتوبر میں پارلیمان کے لیے انتخابات ہوئے تھے جبکہ صدارتی انتخابات میں کامیاب ہونے والا امیدوار بن علی کی برطرفی کے بعد ملک کا پہلا بلا واسطہ منتخب صدر ہوگا۔

تیونس کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق ان اتخابات میں 50 لاکھ افراد ووٹ دینے کے اہل ہیں اور کم از کم 88،000 مبصرین ان انتخابات کی نگرانی کر رہے ہیں۔