تیونس کے پارلیمانی انتحابات میں سیکیولر جماعت کامیاب

،تصویر کا ذریعہReuters
تیونس میں سیکیولر جماعت ’ نداء تونس‘ نے ملک میں سنہ 2011 میں آنے والے انقلاب کے بعد اتوار کو ہونے والے پہلے مکمل پارلیمانی انتخابات جیت لیے ہیں۔
سرکاری نتائج کے مطابق ندا تونس نے 217 نشستوں میں سے 85 پر کامیابی حاصل کی جبکہ حکمران اسلام پسند جماعت ’حرکت النہضہ‘ 69 سیٹیں جیت سکی ہے اور دوسری پوزیشن پر چلی گئی ہے۔
حرکت النہضہ کے رہنماؤں نے نداء تونس پر زور دیا ہے کہ وہ سب کو شامل کر کے حکومت بنائے۔
<link type="page"><caption> تیونس کے پارلیمانی انتحابات میں لبرل جماعت کو برتری</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2014/10/141028_tunisia_election_secularists_zz.shtml" platform="highweb"/></link>
پارلیمانی انتخابات میں حركت النہضہ اور نداء تونس کے علاوہ سیکیولر جماعتوں، کانگریس فار رپبلک اور سیکیولر ڈیموکریٹک فورم اور سابق صدر زین العابدین بن علی کی حکومت کے سابق اہلکاروں نے بھی حصہ لیا۔
انتخابی نتائج کے حوالے سے ابتدائی جائزوں کے بعد حركت النہضہ کے رہنماؤں نے نداء تونس کو انتخابات میں کامیابی پر مبارکباد دیتے ہوئے ان پر زور دیا تھا کہ وہ وسیع البنیاد حکومت تشکیل دیں۔

،تصویر کا ذریعہReuters
ان انتخابات کے لیے تیونس کے تقریباً 50 لاکھ ووٹروں کا اندراج ہوا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
نداء تونس کی کارکردگی سے وسیع توقعات وابستہ ہیں۔
تیونس میں سنہ 2011 میں آنے والے انقلاب کے بعد ملک کا جمہویت کی طرف گامزن ہونے کو خطے میں بڑی کامیابی کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔
خطے میں عرب سپرنگ میں مطلق العنان حکومتوں کے خلاف دوران بغاوت کے دوران سب سے پہلے انقلابتیونس میں آیا جو سب سے کم پرتشدد تھا۔
نداء تونس کی بنیاد 2013 میں پڑی تھی اور یہ آزاد اور سیکیولر رہنماؤں کے اتحاد کا مجموعہ ہے جس میں ایسے رہنما بھی شامل ہیں جو سابق صدر زین العابدین کے دور اقتدار کا حصہ تھے۔
انتخابات سے پہلے نداء تونس کا کہنا تھا کہ وہ اسلام پسند حركت النہضہ سے، جس کے اخوان المسلمین کے ساتھ تعلقات ہیں، کبھی اتحاد نہیں کرے گی۔
سنہ 2011 میں تیونس کے لوگوں نے صدر زین العابدین بن علی کو ملک چھوڑنے پر مجبور کر دیا تھا۔
تیونس میں آنے والی اس تبدیلی نے دیکھتے ہی دیکھتے پورے خطے کو لپیٹ میں لے لیا اور مصر، لیبیا، یمن اور شام میں ایسی ہی تحریکوں نے جنم لیا۔ تاہم تیونس واحد ملک ہے جہاں عرب سپرنگ کے دوران آنے والی تبدیلی پائیدار ثابت ہوئی ہے۔
ان انتخابات میں سابق حکومت کا حصہ رہنے والے افراد بھی حصہ لینے کے اہل تھے۔ شاید اسی لیے تیونس کے صدر منصف المزروقی نے ان انتخابات کو انقلاب کے حامیوں اور انقلاب مخالفوں کے درمیان مقابلہ قرار دیا گیا تھا۔
حركت النہضہ نے 2011 کے انتخابات میں 217 میں 89 نشستوں پر کامیابی حاصل کی تھی۔







