تیونس کے پارلیمانی انتحابات میں لبرل جماعت کو برتری

،تصویر کا ذریعہAFP
تیونس میں 2011 میں آنے والے انقلاب کے بعد پہلے مکمل پارلیمانی انتخابات میں سیکیولر جماعت ’ نداء تونس‘ کو برتری حاصل ہو گئی ہے۔
سیکیولر جماعت کی فتح کی صورت میں حکمران اسلام پسند جماعت ’حرکت النہصہ‘ دوسری پوزیشن پر چلی گئی ہے اور اس نے نتائج کو تسلیم کرتے ہوئے قومی حکومت کی تشکیل پر زور دیا ہے۔
امکان ہے کہ لبرل سیاسی جماعت نداء تونس 217 میں سے 80 نشستیں جیت جائے گی جبکہ حکمراں اسلام پسند جماعت حركت النہضہ کو 70 سیٹوں پر کامیاب حاصل ہو گی۔
پارلیمانی انتخابات میں حركت النہضہ اور نداء تونس کے علاوہ سیکیولر جماعتوں، کانگریس فار رپبلک اور سیکیولر ڈیموکریٹک فورم اور سابق صدر زین العابدین بن علی کی حکومت کے سابق اہلکاروں نے بھی حصہ لیا۔
حركت النہضہ کے رہنماؤں نے نداء تونس کو انتخابات میں کامیابی پر مبارکباد دیتے ہوئے ان پر زور دیا ہے کہ وہ وسیع البنیاد حکومت تشکیل دیں۔

،تصویر کا ذریعہAP
حركت النہضہ کے اہلکار لطفی زیتون نے برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت نے نتائج تسلیم کرتے ہوئے جیتنے والوں کو مبارکباد دی ہے۔
انھوں نے مزید کہا: ’ہم نے ملکی مفادات کے پیشِ نظر قومی اتحاد پر مبنی حکومت کی تشکیل پر زور دیا ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس سے پہلے حركت النہضہ کے رہنما راشد غنوشی نے ایک بیان میں کہا تھا کہ انتخابات جیتنے والوں کو تیونس میں سیاسی اتفاق رائے پر مبنی قومی حکومت کے قیام کی ضرورت کا احترام کرنا چاہیے۔
انھوں نے ایک نجی ٹی وی چینل ہینی بال سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ پالیسی ملک کو اس صورت حال سے بچا سکتی ہے جس میں عرب سپرنگ سے متاثرہ ممالک اس وقت گزر رہے ہیں۔
دوسری جانب نداء تونس کے ہیڈ کوارٹر میں انتخابات میں کامیابی کے بعد کوئی خاص ردعمل سامنے نہیں آ سکا اور بی بی سی کو صرف اتنا بتایا گیا کہ یہ ’تیونس کی فتح ہے۔‘
اس جماعت کی کارکردگی سے وسیع توقعات وابستہ ہیں۔
نداء تیونس کی بنیاد 2013 میں پڑی تھی اور یہ آزاد اور سیکیولر رہنماؤں کے اتحاد کا مجموعہ ہے جس میں ایسے رہنما بھی شامل ہیں جو سابق صدر زین العابدین کے دور اقتدار کا حصہ تھے۔

،تصویر کا ذریعہEPA
انتخابات سے پہلے نداء تونس کا کہنا تھا کہ وہ اسلام پسند حركت النہضہ سے، جس کے اخوان المسلمین کے ساتھ تعلقات ہیں، کبھی اتحاد نہیں کرے گی۔
سنہ 2011 میں تیونس کے لوگوں نے صدر زین العابدین بن علی کو ملک چھوڑنے پر مجبور کر دیا تھا۔
تیونس میں آنے والی اس تبدیلی نے دیکھتے ہی دیکھتے پورے خطے کو لپیٹ میں لے لیا اور مصر، لیبیا، یمن اور شام میں ایسی ہی تحریکوں نے جنم لیا۔ تاہم تیونس واحد ملک ہے جہاں عرب سپرنگ کے دوران آنے والی تبدیلی پائیدار ثابت ہوئی ہے۔
ان انتخابات میں سابق حکومت کا حصہ رہنے والے افراد بھی حصہ لینے کے اہل تھے۔ شاید اسی لیے تیونس کے صدر منصف المزروقی نے ان انتخابات کو انقلاب کے حامیوں اور انقلاب مخالفوں کے درمیان مقابلہ قرار دیا گیا تھا۔
حركت النہضہ نے 2011 کے انتخابات میں 217 میں 89 نشستوں پر کامیابی حاصل کی تھی۔







