امریکہ میں 11 کھرب ڈالر کے متنازع بجٹ کی منظوری

،تصویر کا ذریعہEPA
امریکی سینیٹ نے ملک کے 11 کھرب ڈالر کے متنازع وفاقی بجٹ کی منظوری دے دی ہے جس کے بعد اب اسے صدر براک اوباما کے پاس دستخط کے لیے بھیجا جائے گا۔
سینیٹ نے سنیچر کو رات گئے اسے 40 کے مقابلے 56 ووٹوں سے منظور کیا۔
اس بجٹ پر مہینوں سے سیاسی جماعتوں کے مابین زبردست بحث و مباحثہ جاری رہا اور اس دوران ڈیموکریٹس اور ری پبلکنز دونوں جانب سے لچک بھی دکھائی گئی۔
اس کی منظوری سے امریکہ میں حکومت کے ’شٹ ڈاؤن‘ کا خطرہ ٹل گیا ہے جو کہ آئندہ ہفتے سے شروع ہو سکتا تھا۔
حزبِ مخالف کی جماعت ری پبلکن پارٹی صدر اوباما پر متنازع امیگریشن اصلاحات کو ترک کرنے پر زور دیتی رہی اور اس کے لیے انھوں نے داخلی سلامتی کے محکمے کے لیے جزوی فنڈنگ کی ہی منظوری دی۔
واضح رہے کہ جنوری کے بعد سے دونوں ایوانوں میں ری پبلکنز کی اکثریت ہوگی جس کے بعد انھیں امید ہے کہ وہ غیر قانونی طور پر امریکہ آنے والے بعض تارکین وطن کوصدر اوباما کی جانب سے دیے جانے والے استثنیٰ کے پروگرام کو روک دیں گے۔

،تصویر کا ذریعہGetty
دوسری جانب ڈیموکریٹس مالی ضابطے کی شق کے ہٹائے جانے پر ناخوش تھے لیکن بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ اس کی موجودگی میں بل کا منظور کرایا جانا مشکل تھا اور آئندہ سال ڈیموکریٹس کے لیے سودا کرنا بھی مشکل ہو جاتا۔
ایوان نمائندگان میں یہ متنازع بل جمعرات کو ہی منظور ہو گیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
حکومتی شٹ ڈاؤن کا وقت تیزی سے قریب آنے کے سبب کانگریس نے دو بار ایمرجنسی فنڈنگ بل منظور کیا تھا تاکہ وفاقی بجٹ کے لیے سمجھوتے کو ذرا وقت مل سکے۔
اس بجٹ میں صدر اوباما کی درخواست پر منظور کی جانے والی ایمرجنسی فنڈنگ، مغربی افریقہ میں ایبولا وائرس سے لڑنے کے لیے فنڈ اور عراق و شام میں دولت اسلامیہ کے خلاف فضائی حملے کے لیے پیسے بھی شامل ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty
1600 صفحات پر مشتمل اس بجٹ بل میں دونوں پارٹیوں نے اپنے اپنے حق میں ووٹ حاصل کرنے کے لیے بہت سی چیزیں شامل کرائی ہیں۔
کوئی شخص کسی قومی سطح کی پارٹی کو پہلے زیادہ سے زیادہ 32،400 ڈالر تعاون دے سکتا تھا جسے اب بڑھا کر 324،000 ڈالر کر دیا گیا ہے۔
اس کے تحت ڈسٹرکٹ کولمبیا کو منشیات کو قانونی بنانے کا نظام قائم کرنے کے لیے اپنے فنڈ کے استعمال سے باز رکھنے کی کوشش کی گئی ہے
اس کے علاوہ بعض ماحولیاتی تحفظ ایجنسی (ای پی اے) کے ضابطوں کو روکنا، ای پی اے اور امریکی ٹیکس ایجنسی کے بجٹ میں کٹوتی، اور سکیوریٹیز اور ایکسچینج کمیشن کے ساتھ ساتھ وال سٹریٹ کی ضابطہ کار ایجنسیوں کے بجٹ میں اضافہ وغیرہ اس بجٹ میں شامل ہیں۔







