560 ارب ڈالر کے امریکی دفاعی بجٹ کی منظوری

،تصویر کا ذریعہAFP
امریکی سینیٹ نے ملک کے دفاعی بجٹ کی منظوری دے دی ہے جس کے تحت عراق اور شام میں شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے خلاف کارروائیوں کو وسعت دی جا سکے گی۔
سینیٹ نے امریکی وزارتِ دفاع پینٹاگون کے 469 ارب ڈالر کے عام بجٹ کی منظوری دینے کے ساتھ ساتھ امریکہ کی بیرونی دنیا میں جاری جنگی مہمات کے لیے 64 ارب ڈالر کے اضافی بجٹ کی بھی منظوری دی ہے۔
اس بجٹ کے تحت شام میں بشار الاسد حکومت کے خلاف برسرپیکار اعتدال پسند گروپوں کی فوجی تربیت اور انھیں اسلحہ فراہم کرنے کی گنجائش بھی رکھی گئی ہے۔
واضح رہے کہ دولت اسلامیہ کا شام اور عراق کے بڑے حصے پر کنٹرول ہے جہاں وہ سخت سنی قانون کا نفاذ کر رہی ہے اور غیر مسلموں کو قتل کر رہی ہے۔
اب تک دولت اسلامیہ کے خلاف آپریشنز کے لیے امریکہ اپنے موجودہ پینٹاگون کے بجٹ میں سے ہی خرچ کر رہا تھا لیکن اب اس کے لیے علیحدہ بجٹ مختص کیا گیا ہے۔
یہ بل 11 کےمقابلے 89 ووٹ سے پاس ہوا اور اس میں 4۔3 ارب امریکی ڈالر براہ راست دولت اسلامیہ کے خلاف امریکی تعیناتی کے لیے مختص کیا گيا ہے جبکہ مزید 6۔1 ارب ڈالر عراق کے کرد باشندوں کو دو سال تک تربیت دینے کے لیے مختص کیا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہEPA
امریکہ کی کانگرس یعنی ایوان زیریں کے نمائندگان پہلے ہی اس بل کو منظوری دے چکے ہیں اور اب اس بل کو صدر براک اوباما کو بھیجا جائے گا اور ان کے دستخط کے کے ساتھ ہی اس کی توثیق ہو جائے گی۔
نیشنل ڈیفنس اتھورائزیشن ایکٹ (این ڈی اے اے) کئی ماہ سے حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان بحث کا موضوع بنا ہوا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس بجٹ میں فوجیوں کی تنخواہوں میں ایک فیصد اضافے کی تجویز بھی منظور کی گئی ہے۔
اس بل میں صدر اوباما کی خلیج گوانتانامو کے حراستی مرکز کو بند کرنے کی تجویز کو رد کر دیا گیا ہے اس کے علاوہ وہاں سے امریکی جیل خانوں میں قیدیوں کی منتقلی پر بھی پابندی لگائی گئی ہے۔
اس بجٹ میں پرانے اے 10 جہازوں کو ناقابل استعمال قرار دیے جانے کے عمل کو ایک سال کے لیے موخر کر دیا گیا ہے۔







