مجھے یقین ہے سکاٹ لینڈ ریفرنڈم نتائج کا احترام کرے گا: ملکہ برطانیہ

،تصویر کا ذریعہPA
ملکہ برطانیہ نے کہا ہے کہ سکاٹ لینڈ کی آزادی کے ریفرینڈم کے بعد سکاٹ لینڈ ’باہمی احترام‘ میں متحد ہو جائے گا۔
ملکہ برطانیہ کا یہ پیغام سکاٹ لینڈ میں ریفرینڈم میں برطانیہ سے علیحدگی کے خلاف ووٹ کے بعد آیا ہے۔
انھوں نے اپنے پیغام میں کہا کہ وہ سمجھ سکتی ہیں کہ اس ریفرینڈم کے بعد متضاد جذبات جنم لیں گے لیکن ان کو اعتماد ہے کہ سکاٹ لینڈ ان کو پیچھے چھوڑ کر آگے بڑھے گا۔
انہوں نے کہا ’کئی ماہ کی بحث، مباحثے اور سوچ کے بعد اب ہم ریفرنڈم کے نتائج جانتے ہیں اور برطانیہ بھر میں ہم سب اس نتیجے کا احترام کریں گے۔ سکاٹ لینڈ میں دوستوں، ہمسایوں اور اہل و عیال کے درمیان متضاد جذبات ہوں گے اور یہی جمہوری نظام کا حصہ ہے جو اس ملک میں ہے۔‘
اس سے قبل سکاٹ لینڈ کے فرسٹ منسٹر ایلیکس سیمنڈ نے ریفرینڈم میں شکست تسلیم کرتے ہوئے کہا ہے کہ’ یہ کہنا اہم ہو گا کہ ریفرینڈم کا عمل رضامندی اور منظوری پر مبنی تھا اور سکاٹ لینڈ کی اکثریت نے اس وقت علیحدہ ملک بننے کے بارے میں طے نہیں کیا۔‘
انھوں نے کہا کہ وہ لوگوں کے فیصلے کو تسلیم کرتے ہیں تمام سکاٹ لینڈ سے کہتے ہیں کہ وہ تمام سکاٹ لینڈ سے کہتے ہیں کہ جمہوری فیصلے کو قبول کریں۔
فرسٹ منسٹر ایلکس سیلمنڈ نے مرکزی جماعتوں سے کہہ کہ وہ سکاٹ لینڈ کی پارلیمان کو زیادہ بااختیار بنانے کے وعدے پر اچھی طرح سے عمل کریں۔
سکاٹ لینڈ میں برطانیہ سے علیحدگی حاصل کرنے یا ساتھ رہنے کے فیصلے پر ریفرینڈم میں سکاٹ لینڈ نے برطانیہ کے ساتھ رہنے کا فیصلہ کیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سکاٹ لینڈ کے فرسٹ منسٹر ایلیکس سیمنڈ نے شکست تسلیم کر لی ہے۔

،تصویر کا ذریعہ
برطانیہ کے وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے ریفرینڈم کے نتائج کے بعد خطاب میں کہا ہے کہ انھیں اس بات پر خوشی ہوئی ہے کہ برطانیہ متحد رہے گا اور اضافی اختیارات دینے کے وعدوں کا احترام کیا جائے گا۔
انھوں نے کہا کہ پارلیمنٹ میں موجود تین مرکزی جماعتیں اب سکاٹش پارلیمنٹ کو زیادہ اختیارات کے عزم کو قابل عمل بنانا ہو گا۔
’ہم اس بات کو یقینی بنائیں کہ ان وعدوں کا مکمل احترام کیا جائے گا۔‘
اس ریفرینڈم میں ووٹروں سے سوال پوچھا گیا ہے کہ کیا سکاٹ لینڈ کو آزاد ملک ہونا چاہیے اور اس پر ووٹرز ’ہاں‘ یا ’نہ‘ میں جواب دیا تھا۔
اس ریفرینڈم میں جیت کے لیے فریقین کو جیتنے کے لیے کُل 1,822,942 درکار تھے۔
32 کونسلز میں سے 26 نے ’نہ‘ کے حق میں ووٹ دیا ہے اور اس طرح اس کو 55 فیصد ووٹ حاصل ہوئے ہیں جبکہ ’ہاں‘ کے حق میں 45 فیصد پڑے ہیں۔
تمام کونسلز کے نتائج آ چکے ہیں اور ان میں 2,001,926نے ’نہ‘ جبکہ 1,617,989 نے ’ہاں‘ کے حق میں ووٹ دیا۔
پہلے 24 نتائج میں سے صرف چار کونسلز نے ’ہاں‘ کے حق میں ووٹ دیا۔نتائج کے بعد اب سکاٹ لینڈ کو زیادہ اختیارات دینے کے بارے میں بات چیت ہو گی۔
اس سے پہلے سکاٹ لینڈ میں 5579 پولنگ سٹیشنوں پر ووٹ ڈالے گئے اور پولنگ مقامی وقت کے مطابق رات دس بجے تک جاری رہی۔

،تصویر کا ذریعہReuters
ووٹنگ کے مرحلے کے بند ہونے کے بعد یو گو (YouGov) کے سروے میں کہا گیا تھا کہ آزادی کے حق میں 46 فیصد جبکہ مخالف میں 54 فیصد افراد ہیں۔
اس سروے کے لیے 1828 ووٹرز اور 800 پوسٹل ووٹرز سے ووٹ ڈالنے کے بعد پوچھا گیا۔
ایک بار 32 کونسلز میں ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے کے بعد ہر کونسل کا سربراہ ایڈنبرا میں موجود چیف کاؤنٹنگ آفیسر میری پٹکیتھلی کو ان ووٹوں کے اعداد و شمار بھیجیں گے۔
چیف کاؤنٹنگ آفیسر میری پٹکیتھلی کی اجازت کے بعد ہی حتمی نتیجے کا اعلان کیا جائے گا۔
چیف کاؤنٹنگ آفیسر میری پٹکیتھلی کااس سے قبل کہنا تھا کہ وہ جمعہ کی صبح ساڑھے چھ اور ساڑھے سات بجے کے درمیان نتائج کا اعلان کریں گی۔







