’خبردار، لنگور کے لیے شراب ممنوع ہے‘

،تصویر کا ذریعہFile Photo
کینیا کی مصروف شاہراؤں سے گزرنے والے مسافروں کو انتباہ کیا گیا ہے کہ وہ وہاں موجود لنگوروں کو شراب نہ دیں۔
کینیا کے مقامی اخبار دی نیشن کی رپورٹ کے مطابق محکمہ جنگلی حیات کا کہنا ہے کہ جانوروں کو نشہ آور محلول دینا غیر ذمہ دارانہ حرکت ہے۔
ادارے کے سربراہ ولیم کبت کیپرونو کہتے ہیں ’جانوروں اور انسانوں پر شراب کااثر یکساں طور پر ہوتا ہے۔‘
وہ نائی واشہ میں گفتگو کر رہے تھے جو کہ موٹر وے پر موجود ایک گاؤں ہے اور یہ ناکورو شہر کو دارالحکومت نیروبی سے ملاتا ہے۔
یہ علاقہ قدرتی ذخائر سے مالا مال ہے اور وہاں جنگلی جانوروں کی بہتات ہے۔
محمکہ جنگلی حیات کے ڈائریکٹر کے مطابق شراب پینے کے اثر کی وجہ سے جانور مشتعل ہو سکتا ہے یا اس کی وجہ سے سڑک کے اطراف میں چلنے والے متاثر ہو سکتے ہیں اور یہ کسی حادثے کا باعث بن سکتا ہے۔
’ہو سکتا ہے کہ وہ مے نوشی کے بعد لوگوں سے لڑنے لگیں اور اگر اسے دیکھا نہ جائے تو کسی کی موت بھی واقعہ ہو سکتی ہے۔‘
ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ لوگوں کی جانب سے لنگوروں کو شراب دیا جانا کتنا عام ہے تاہم ایک اندازے کے مطابق ان قدرتی ذخائر کے علاقے کے اطراف میں 7000 کے قریب لنگور موجود ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دوسری جانب مقامی افراد ان مضر اور مست جانوروں کے بارے میں شکایت کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے ’یہ ہماری بکریاں کھا جاتے ہیں، ہم گذشتہ تین سال سے کاشت کاری نہیں کرسکے۔‘
ایک کسان نے بتایا کہ ’ہر روز ہم اپنے باورچی خانے سے خوراک چوری کرنے والے تقریباً بیس لنگوروں کا پیچھا کرتے ہیں۔‘







