’ہمیں بچوں کی جبری مشقت کے شواہد ملے ہیں‘

،تصویر کا ذریعہReuters
سام سنگ الیکٹرانکس کا کہنا ہے کہ انھیں اپنے ایک چینی سپلائر ڈونگ گوان شن یانگ الیکٹرونکس کی فیکٹری میں مبینہ طور پر بچوں سے جبری مشقت کروانے کے شواہد ملے ہیں۔
سام سنگ نے اس معاملے کی تفتیش اس وقت کی جب نیویارک کی ایک تنظیم چائنا لیبر واچ نے ان پر الزام لگایا کہ وہ بچوں سے جبری مشقت کرواتے ہیں۔
جنوبی کوریا کی الیکٹرانک کمپنی سام سنگ نے عبوری طور پر اس سپلائر کے ساتھ کاروباری تعلقات منسوخ کر دیے ہیں۔
سام سنگ کا کہنا ہے کہ چینی حکام بھی اس معاملے پر غور کر رہے ہیں۔
کمپنی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’اگر یہ ثابت ہو گیا کہ اس سپلائر نے بچوں سے کام لیا ہے تو سام سنگ ہمیشہ کے لیے اس کمپنی کے ساتھ کاروبار کرنا چھوڑ دے گا کیونکہ اس سلسلے میں ہم ذرا بھی کوتاہی برداشت نہیں کرتے۔
’اس کے علاوہ سام سنگ ان کمپنیوں کے ساتھ معاہدے کرنے کے عمل کو نہ صرف اپنی فیکٹریوں میں بلکہ سپلائر کی کمپنیوں میں بھی مضبوط بنائے گا تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات پیش نہ آئیں۔‘
سام سنگ کا کہنا ہے کہ 2013 سے اب تک ڈونگ گوان شن یانگ الیکٹرونکس کا تین مرتبہ آڈٹ کیا گیا جن میں سے آخری آڈٹ 25 جون کو مکمل ہوا تھا۔
’تاہم ان میں بچوں کی جبری ملازمت کے کوئی شواہد نہیں ملے تھے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تاہم چائنا لیبر واچ کے الزامات کے بعد کمپنی نے ایک دوسری تفتیش شروع کی جس میں غیر قانونی ملازمت کے شواہد مل گئے۔ یہ تفتیش 29 جون کو کی گئی۔
یہ پہلا موقع ہے کہ سام سنگ ایسے انکشاف کو منظرِ عام پر لایا ہے جن میں ان کے یا کسی کاروباری شراکت دار پر بچوں سے جبری مشقت لینے کا الزام ہو۔
فی الحال ڈونگ گوان شن یانگ الیکٹرونکس نے ان الزامات کا کوئی جواب نہیں دیا۔







