سام سنگ نے اپیل کے پیٹنٹ کی خلاف ورزی کی ہے: جج

ایپل اور سام سنگ نے ایک عرصے سے مختلف ملکوں میں ایک دوسرے کے خلاف ٹیکنالوجی چوری کرنے کے مقدمات دائر کیے ہوئے ہیں

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنایپل اور سام سنگ نے ایک عرصے سے مختلف ملکوں میں ایک دوسرے کے خلاف ٹیکنالوجی چوری کرنے کے مقدمات دائر کیے ہوئے ہیں

ایک امریکی جج نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ موبائل کمپنی سام سنگ نے امریکی کمپنی ایپل کے پیٹنٹ کی خلاف ورزی کی ہے۔

ایپل کی ٹیکنالوجی میں صارف جب لفظ لکھنا شروع کرتے ہیں تو موبائل اس سے ملتا جلتا پورا لفظ تجویز کر دیتا ہے جس سے صارف کو آسانی ہوتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے اینڈروئڈ کے دیگر آلات بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔

یہ فیصلہ اس مقدمے سے قبل آیا ہے جس میں دونوں کمپنیوں نے ایک دوسرے پر مختلف فیچرز کی نقل کرنے کے الزامات لگائے ہیں۔

جج لوسی کو نے سام سنگ کی جانب سے ایپل کے خلاف سنکرونائز ٹیکنالوجی کی خلاف ورزی کے دعوے کو اس بنیاد پر مسترد کر دیا کہ سام سنگ نے اس یہ ٹیکنالوجی پہلے رجسٹر نہیں کروائی تھی۔

یاد رہے کہ جج لوسی ہی نے ان دونوں کمپنیوں کے درمیان سنہ 2012 میں بھی مقدمے کی سماعت کی تھی۔

واضح رہے کہ 31 مارچ کو جب دونوں کمپنیوں کے درمیان مقدمہ سماعت کے لیے آئے گا تو اس وقت ایپل سام سنگ پر پانچ اور سام سنگ ایپل کے خلاف چار دعوے کرے گا۔

جج لوسی کے فیصلے کی پہلی خبر پیٹنٹ کنسلٹنٹ فلوریئن میولر نے دی۔

فیصلے کے مطابق آٹو کمپلیٹ (auto complete) کی ٹیکنالوجی ایپل نے جنوری 2007 کو رجسٹر کرائی تھی۔ اس کے چند ہی روز بعد سٹیو جابز نے پہلا آئی فون متعارف کرایا تھا۔

اس کے بعد سام سنگ نے دعویٰ کیا کہ یہ پیٹنٹ صرف موبائلز اور ٹیبلٹس پر لاگو ہوتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کے بعد ایپل کمپنی سام سنگ کے گیلیکسی نیکسس فون اور گیلیکسی نوٹ فیبلٹ کے ابتدائی ماڈلوں کی فروخت معطل کرنے کا کہہ سکتی ہے۔