سہ ماہی میں 25 فیصد منافع کم ہوگا: سام سنگ

،تصویر کا ذریعہsamsung
سام سنگ الیکٹرونکس نے اعلان کیا ہے کہ اس سال سمارٹ فون مارکیٹ میں سست روی اور کوریا کی کرنسی میں بہتری کے باعث آئندہ سہ ماہی میں منافعے میں 25 فیصد کمی ہوگی۔
کمپنی کو توقع ہے کہ اپریل سے جون کے عرصے میں وہ سات اعشاریہ ایک بلین ڈالر کا منافع کمائیں گے جو کہ گذشتہ سال اسی عرصے کے اعداد و شمار کے مقابلے میں تقریباً دو بلین ڈالر کم ہے۔
یہ تیسری مسلسل سہ ماہی ہے کہ کمپنی کے منافعے میں کمی آ رہی ہے۔
سام سنگ سمارٹ فون بنانے والی دنیا کی سب سے بڑی کمپنی ہے اور سمارٹ فونز ہی اس کے منافعے کا بڑا حصہ ہیں۔
جنوبی کوریا کی کمپنی کا کہنا ہے کہ اس کی مشکلات کی وجہ دنیا بھر میں سمارٹ فون مارکیٹ میں سست روی کے ساتھ ساتھ چینی اور یورپی مارکیٹوں میں سخت مقابلہ ہے۔
دوسری جانب کوریا کی کرنسی وان میں بہتری بھی سام سنگ کے منافعے پر بری طرح اثر انداز ہوئی ہے۔
گذشتہ سال جولائی سے لے کر جون 2014 کے درمیان امریکی ڈالر کے مقابلے میں کوریائی وان 11 فیصد اور یورو کے مقابلے میں سات فیصد مہنگا ہوا ہے۔
کرنسی میں بہتری سام سنگ جیسی کمپنیوں کے لیے اس لیے نقصان دے ہوتی ہے کیونکہ ان کمپنیوں کا انحصار برآمدات پر زیادہ ہوتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
گذشتہ چند سالوں میں سام سنگ کی ترقی میں موبائل فون ڈویژن کا اہم کردار ہے۔
سام سنگ کے گیلکسی فون سیریز کی کامیابی اور سمارٹ فونز کے بڑھتے ہوئے رجحان کی وجہ سے 2012 میں سام سنگ نے دنیا کی سب سے بڑی فون بنانے والی کمپنی کے طور پر نوکیا کی جگہ لے لی تھی۔
تاہم دنیا بھر میں سمارٹ فونز کے رجحان میں کمی کی وجہ سے اس صنعت کو مشکلات کا سامنا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سیکٹر میں منافع اور بھی کم ہوتا جائے گا۔







