فلسطینیوں کو شمالی غزہ سے نکل جانے کا انتباہ

اسرائیل

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنطویل عرصے کے لیے اسرائیلی تحفظ کو یقینی بنایا جا رہا ہے:نتن یاہو

اسرائیل نے شمالی غزہ میں بسنے والے فلسطینیوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ فضائی حملوں سے قبل اپنے گھروں کو چھوڑ دیں۔

یہ وارننگ اسرائیلی نیوی کے کمانڈوز کے حالیہ حملوں کے دوران پہلی زمینی کارروائی سے قبل جاری کی گئی ہے۔ اسرائیل کا دعوی ہے کہ فلسطینیوں کی جانب سے جہاں میزائیل داغا گیا تھا اس مقام پر حملے کے دوران اُس کے چار فوجی زخمی ہوئے ہیں، جبکہ حماس کا کہنا ہے کہ ساحل کے قریب اُس کی ایسی کوئی تنصیب موجود نہیں۔

اسرائیلی بحریہ کے کمانڈوز نے غزہ کے ساحلی علاقے میں زمینی حملہ کیا ہے جو کہ حالیہ کشیدگی میں پہلا ایسا واقعہ ہے۔

رات بھر جاری رہنے والے اسرائیلی حملوں میں کم از کم سترہ افراد مارے گئے جو حملے کے وقت فلسطینی پولیس کے سربراہ کے گھر پر موجود تھے۔

اُدھر حماس نے بھی تل ابیب سمیت اسرائیلی شہروں پر راکٹ داغے ہیں۔

غزہ

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنسکیورٹی کونسل نے غزہ کی پٹی میں فلسطینی ہلاکتوں میں اضافے کے بعد اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان جنگ بندی کی اپیل کی ہے

حالیہ لڑائی کے دوران کم از کم 160 فلسطینی مارے جا چکے ہیں جبکہ اب تک کسی اسرائیلی شہری کی ہلاکت کی اطلاع نہیں ہے۔

ایک سکول میں قائم اقوام متحدہ کے کیمپ میں پناہ لینے والی ایک خاتون نے بتایا کہ اُنہیں اسرائیلی فورسز نے گھر چھوڑ دینے کی اطلاع دی تھی۔

اُدھر اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نتن یاہو کا کہنا ہے کہ وہ طویل عرصے کے لیے اسرائیل کے تحفظ کو یقینی بنانا چاہتے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کی سکیورٹی کونسل نے غزہ کی پٹی میں فلسطینی ہلاکتوں میں اضافے کے بعد اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان جنگ بندی کی اپیل کی تھی۔ اسرائیلی وزارت خارجہ کے ترجمان آگال پالمر کا کہنا ہے کہ شہریوں کی ہلاکت کی ذمہ داری حماس کے کاندھوں پر ہے۔

اقوام متحدہ کی جنگ بندی اور مزاکرات شروع کرنے کے کی اپیل پر آگال پالمر کا کہنا تھا۔

غزہ

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشناسرائیل کا کہنا ہے کہ شہریوں کی ہلاکت کے لیے حماس ذمہ دار ہے

بی بی سی کے نمائندے کے مطابق آٹھ جولائی یعنی جب سے اسرائیلی حملے شروع ہوئے ہیں، اتوار کی صبح کے حملے سب سے زیادہ تھے۔

فلسطینی ذرائع کا کہنا ہے کہ اب تک اسرائیل کی بمباری میں کم از کم 160 فلسطینی ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ ایک ہزار سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں۔

اس کے علاوہ گذشتہ شب اسرائیل کے غزہ پر فضائی حملے جاری رہے جن میں فلسطینی پولیس قیف کے گھر میں حملے میں اس خاندان کے سترہ افراد ہلاک ہوگئے۔

یاد رہے کہ اقوامِ متحدہ کی سکیورٹی کونسل نے غزہ کی پٹی میں فلسطینی ہلاکتوں میں اضافے کے بعد اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان جنگ بندی کی اپیل کی ہے۔

اتوار کی صبح اسرائیلی فضائی حملے میں خطے کے سکیورٹی ہیڈ کوارٹر اور پولیس سٹیشن کو بھی نشانہ بنایا گيا۔

بی بی سی کے نمائندے کے مطابق جولائی 8 سے جب سے اسرائیلی حملے شروع ہوئے ہیں اتوار کی صبح کے حملے سب سے تیز تھے۔

دریں اثنا اسرائیل نے کہا ہے کہ جہاں سے راکٹ داغے جا رہے ہیں ان پر چھاپہ مارنے کے لیے زمینی فورسز روانہ کی گئی ہیں۔

اسرائیل کی دفاع نے اپنے ٹوئیٹر پر کہا کہ اس کامیاب آپریشن میں ان کے چار فوجی معمولی طور پر زخمی ہوئے ہیں۔

بعض اسرائیلی غزہ پر بمباری کا منظر دیکھ رہے ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنبعض اسرائیلی غزہ پر بمباری کا منظر دیکھ رہے ہیں

اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس پر سنیچر کو غزہ سے 90 راکٹ داغے گئے ہیں اس کے ساتھ اس نے یہ بھی کہا ہے کہ اسلام پسند جنگجو حماس نے ساحلی علاقے سے تیل ابیب کی جانب داغے جانے والے تین راکٹوں کو درمیان ہی میں روک دیا ہے۔

بی بی سی کے مشرق وسطی کے مدیر جیرمی بووین کا کہنا ہے کہ ہرچند کہ طرفین کسی قسم کی جنگ بندی کے لیے تیار نہیں ہیں لیکن حماس اور اسرائیل کے درمیان حالیہ جنگ عالمی دباؤ کے تحت رک جائے گی۔

سلامتی کونسل کے تمام پندرہ ارکان نے ایک متفقہ بیان میاں میں کشیدگی کو ختم کرنے، امن کو بحال کرنے اور امن مذاکرات کو دوبارہ شروع کرنے کی اپیل کی ہے۔

غزہ میں محکمۂ صحت کے حکام کے مطابق سنیچر کی شام کو اسرائیلی فضائی حملے میں کم از کم 15 افراد ہلاک ہوئے جبکہ زخمی ہونے والوں میں غزہ کے پولیس سربراہ بھی شامل ہیں۔

فلسطینی ذرائع کا کہنا ہے کہ پانچ روز قبل اسرائیل کی جانب سے فضائی حملوں میں اب تک 156 فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔

جبکہ اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس پر سنیچر کو 90 راکٹ حملے ہوئے ہیں جس سے کافی نقصان ہوا ہے۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس پر سنیچر کو غزہ سے 90 راکٹ داغے گئے ہیں

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشناسرائیل کا کہنا ہے کہ اس پر سنیچر کو غزہ سے 90 راکٹ داغے گئے ہیں

اسرائیل کا حملہ شروع ہونے کے بعد یہ سلامتی کی جانب سے پہلا بیان جاری ہوا ہے پہلے کونسل کے اراکان کا ردِ عمل مختلف تھا۔

اسرائیل کی جانب سے غزہ میں جاری حملوں کو روکنے کے حوالے سے عالمی دباؤ کے خلاف مزاحمت کے اعلان کے بعد اسرائیل اور غزہ کی پٹی میں موجود شدت پسندوں کے درمیان حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔

اقوام متحدہ کے ایک ادارے کا کہنا ہے غزہ پر اسرائیل حملوں میں ہلاک ہونے والی تین چوتھائی افراد شہری ہیں۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ حماس کو اسرائیل پر راکٹ حملے بند کرنے کے لیے طاقت کا استعمال کر رہا ہے۔ اسرائیل حماس پر غزہ کے شہریوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنے کا الزام لگاتا ہے۔

لندن میں ایک سنیئر فلسطینی اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ غزہ ایک گنجان آباد علاقہ ہے اور اس پر فضائی حملوں میں شہریوں کا ہلاک ہونا لازمی ہے۔

دوسری جانب اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں تین چوتھائی عام شہری ہیں۔

ادھر اسرائیل کا کہنا ہے اس نے تازہ حملوں میں ’دہشت گردی کے 60 سے زائد‘ ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔

اسرائیلی فوج کے مطابق بیرشیبا میں دو راکٹ گرے۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ شدت پسندوں اور ان کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا رہا ہے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشناسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ شدت پسندوں اور ان کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا رہا ہے

خیال رہے کہ اسرائیل کی جانب سے غزہ میں جاری آپریشن کے پانچویں روز اب تک سینکڑوں میزائل اور راکٹ برسائے جا چکے ہیں۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ شدت پسندوں اور ان کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا رہا ہے اور ان حملوں میں ہلاک ہونے والوں میں درجنوں ’دہشت گرد‘ شامل ہیں۔

اقوامِ متحدہ کی جانب سے کی جانے والے جنگ بندی کی شدید سفارتی کوششوں کے باوجود فریقین جنگ بندی پر راضی نہیں ہیں۔

اس سے پہلے اسرائیلی وزیراعظم نتن یاہو نے جمعے کو کہا تھا کہ غزہ میں جاری حملوں کو روکنے کے حوالے سے عالمی دباؤ کے خلاف مزاحمت کریں گے۔

ان کے مطابق ان حملوں کا مقصد اسرائیلی شہروں میں امن قائم کرنا ہے اور میں یہ مقصد حاصل کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں۔

فلسطینی حکام کے مطابق بیتِ لیحا میں قائم ایک عمارت پر اسرائیلی حملے میں دو خواتین ہلاک ہو گئیں۔

فلسطین کی وزارتِ صحت کے مطابق جبیلا میں موجود ایک مکان پر حملے کے نتیجے میں تین دیگر افراد ہلاک ہوئے جبکہ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس عمارت میں ہتھیار اکھٹے کیے جا رہے تھے۔

اس سے قبل اقوامِ متحدہ کے جنرل سیکریٹری بان کی مون نے اسرائیل اور فلسطین پر کشیدگی ختم کرنے کے لیے زور دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’غزہ میں صورتِ حال تباہی کے دہانے پر ہے۔‘

انھوں نے خبردار کیا کہ یہ خطہ ایک اور مکمل جنگ کا متحمل نہیں ہو سکتا۔

بان کی مون نے کہا ’بگڑتی ہوئی صورتِ حال تیزی سے قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے،‘ اور ’تشدد پھیلنے کا خطرہ اب بھی حقیقی ہے۔‘

انھوں نے حماس سے اسرائیل پر راکٹ حملے بند کرنے کا مطالبہ کیا اور اسرائیل پر بھی قابو میں رہنے پر زور دیتے ہوئے اسے عام شہریوں کے تحفظ کا خیال رکھنے کا کہا۔

خیال رہے کہ اسرائیل نے منگل سے فلسطینی علاقے میں بمباری کا سلسلہ شروع کیا ہوا ہے اور اب تک سینکڑوں حملے کیے جا چکے ہیں۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ یہ حملے حماس کی جانب سے اس کی سرزمین پر راکٹ حملوں کا ردعمل ہیں لیکن راکٹ حملوں سے اسرائیل میں ایک بھی شخص کی ہلاکت کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔