اسرائیلی حملوں کے جواب میں مزید راکٹ فائر

سنہ 2012 کے بعد اسرائیل کی جانب سے حماس کے خلاف یہ پہلا بڑا حملہ ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنسنہ 2012 کے بعد اسرائیل کی جانب سے حماس کے خلاف یہ پہلا بڑا حملہ ہے

اسرائیل کی جانب سے غزہ کی پٹی پر فضائی اور بحری کارروائی کے جواب میں فلسطینی عسکریت پسند تنظیم حماس نے اسرائیلی شہروں پر راکٹ برسائے ہیں۔

حماس نے منگل کی رات کو اسرائیلی شہروں پر کئی راکٹ داغے لیکن ان کو فضا ہی میں تباہ کر دیا گیا۔ اس سے قبل حماس کی جانب سے تل ابیب پر راکٹ فائر کیا گیا تھا، اسے بھی فضا ہی میں تباہ کر دیا گیا۔

<link type="page"><caption> ’ابوخضیر کے قاتلوں کو انصاف کے کٹہرے میں لائیں گے‘</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2014/07/140706_netanyahu_pledges_justice_rwa.shtml" platform="highweb"/></link>

غزہ میں حکام کے مطابق اسرائیل نے ڈرون حملے میں ایک موٹر سائیکل کو نشانہ بنایا، جس میں ایک شخص ہلاک اور ایک زخمی ہو گیا۔

فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حملوں میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 30 تک پہنچ گئی ہے، جبکہ اسرائیل کا کہنا ہے کہ فضائی حملوں میں ایسے مقامات کو ہدف بنایا جا رہا ہے جہاں سے اسرائیل کی جانب راکٹ داغے جاتے ہیں اور ان میں حماس کے رہنماؤں کے مکانات اور کمانڈ سینٹروں کو ٹارگٹ کیا گیا ہے۔

دوسری جانب اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامین نتن یاہو نے منگل کی شام کہا کہ ’کوئی ملک خطرے میں نہیں رہ سکتا اور نہ ہی کوئی ملک اس قسم کا خطرہ برداشت کر سکتا ہے۔ اس لیے ہم نے حماس اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کے خلاف کارروائیوں کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔‘

اس سے قبل اسرائیلی فوج نے کہا تھا کہ وہ غزہ کی پٹی پر زمینی حملے سمیت تمام ممکنہ اقدامات پر غور کر رہی ہے۔

اسرائیل کا کہنا تھا کہ منگل کو اس نے غزہ کی پٹی میں 40 اہداف کو نشانہ بنایا جبکہ دوسری جانب سے اسرائیل پر 40 راکٹ فائر کیے گئے۔

اسرائیل نے کہا تھا کہ اس نے حماس کی جانب سے اپنی سرحد کے اندر متعدد راکٹ حملوں کے بعد غزہ کی پٹی میں ایک بڑا فضائی آپریشن شروع کیا ہے۔ اسرائیلی جہازوں نے رات بھر کم سے کم 20 اہداف کو نشانہ بنایا۔

اسرائیلی کابینہ نے تاحال کسی زمینی کارروائی کی اجازت نہیں دی

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشناسرائیلی کابینہ نے تاحال کسی زمینی کارروائی کی اجازت نہیں دی

اسرائیل نے اپنی ریزرو فورس کے 1500 اہلکاروں کو طلب کر لیا ہے، اور غزہ کی سرحد کے ساتھ مزید فوج تعینات کر دی ہے۔ تاہم اسرائیلی کابینہ نے تاحال کسی زمینی کارروائی کی اجازت نہیں دی۔

اسرائیل اور حماس کے درمیان تازہ کشیدگی اس وقت شروع ہوئی جب تین اسرائیلی اور ایک فلسطینی نوجوان کی ہلاکتیں ہوئیں۔

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ پیر کو حماس کی جانب سے ایک گھنٹے میں 40 راکٹ داغے گئے۔

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ سات راکٹوں کو جنوبی شہر اشدود میں فضا ہی میں تباہ کر دیا گیا جبکہ پانچ راکٹ نتيفوت میں تباہ کیے گئے۔

اسرائیلی حکام نے غزہ کی پٹی سے 40 کلومیٹر کے فاصلے میں تمام علاقوں میں سکول اور موسم گرما کیمپ بند کرنے کا حکم دیا ہے۔

خیال رہے کہ سنہ 2012 کے بعد سے اسرائیل کی جانب سے اسلامی تنظیم حماس کے خلاف یہ پہلا بڑا حملہ ہے۔