فلسطینی نوجوان کی آخری رسومات میں تاخیر

،تصویر کا ذریعہAFP
فلسطین میں اس نوجوان لڑکے کا جنازہ مؤخر کر دیا گیا ہے جسے اغوا کر کے اسرائیل میں قتل کر دیا گیا تھا۔
محمد ابو خدیر کے خاندان کا کہنا ہے کہ پولیس انھیں میت دینے سے انکار کر رہی ہے لیکن پولیس اس الزام سے انکار کر رہی ہے۔
بدھ کو محمد ابو خدیر کے قتل کے بعد سے اسرائیل اور فلسطین کے درمیان تناؤ میں اضافہ ہو چکا ہے کیونکہ فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ اس نوجوان کو تین اسرائیلی نوجوانوں کے قتل کے بدلے میں مارا گیا ہے۔
اسرائیل نے عسکریت پسندوں کی جانب سے مارٹر حملوں کے جواب میں جمعرات کی صبح غزہ پر کئی فضائی حملے کیے ہیں۔اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ غزہ سے 20 مارٹر گولے اور راکٹ داغے گئے تھے۔
اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ عسکریت پسند بدھ کی صبح سے درجنوں گولے پھینک چکے ہیں جن میں سے دو گھروں کے اوپر گرے لیکن کوئی شخص زخمی نہیں ہوا۔
اسرائیلی افواج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ جمعرات کی صبح سے اسرائیلی فضائیہ غزہ میں دہشت گردی کے 15 ٹھکانوں کو نشانہ بنا چکی ہے۔ ترجمان کے مطابق جن مقامات کو نشانہ بنایا گیا ان میں ہتھیار بنانے کی جگہیں اور تربیتی مراکز شامل ہیں۔
غزہ سے وزارتِ صحت سے منسلک اشرف القدرہ نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ اسرائیلی فضائیہ کے حملوں میں 10 فلسطینی افراد زخمی ہوئے جنھیں ہسپتال پہنچایا گیا ہے۔
بدھ کے روز 17 سالہ محمد ابو خدیر کے قتل کی فلسطینی اور اسرائیلی دونوں ہی حکام نے مذمت کی تھی۔ یہ الزام لگایا گیا تھا کہ یہ قتل اسرائیلی نوجوانوں کے قتل کا بدلہ ہے جس کی وجہ سے علاقے میں شدید کشیدگی پیدا ہوگئی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس سے قبل اعلان کیا گیا تھا کہ محمد ابو خدیر کی آخری رسومات جمعرات کو مقامی وقت کے مطابق دوپہر ایک بجے ادا کی جائیں گی۔
یاد رہے کہ حال ہی میں تین مغوی اسرائیلی نوجوانوں کی لاشیں برآمد ہونے کے بعد اسرائیلی وزیرِ اعظم نے کہا تھا کہ حماس کو اس کی قیمت چکانی پڑے گی جبکہ حماس کا کہنا تھا کہ ان کے خلاف کارروائی سے ’دوزخ کے دروازے کھل جائیں گے۔‘
غرب اردن میں واقع اسرائیلی بستی کے قریب سے جون کے اوائل میں تین لاپتہ ہونے والے اسرائیلی نوجوانوں کی پیر کو ہیبرون کے قریب ہان حل سے لاشیں برآمد ہوئی تھیں۔
16 سالہ نافتالی فرینکل اور جیلاد شار اور 19 سالہ نوجوان آئل افراق کو آخری بار یروشلم اور ہیبرون کے درمیان واقع یہودی بستیوں کے ایک بلاک میں دیکھا گیا تھا۔
اسرائیلی وزیرِ اعظم بن یامین نتن یاہو نے اس واقعے کے لیے حماس کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے جسے حماس نے مسترد کیا۔







