کیا چین متنازع جزائر پر جاپان سے جنگ کرےگا؟

سب سے پہلے سنہ 1970 میں ان جزائر پر جاپان کی ملکیت پر تنازع سامنے آیا تھا

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنسب سے پہلے سنہ 1970 میں ان جزائر پر جاپان کی ملکیت پر تنازع سامنے آیا تھا

امریکی صدر براک اوباما بدھ کو ایشیا میں اپنے اہم اتحادی ملک جاپان کے دورے پر پہنچے ہیں اور اس دورے پر چینی رہنماؤں کی نظریں بھی ہوں گی۔

براک اوباما نے جاپان کے دورے سے پہلے ایک جاپانی اخبار کو انٹرویو دیتےہوئے کہا کہ بحیرۂ مشرقی چین میں واقع جزائر دونوں ممالک کے درمیان کئی دہائیوں سے موجود دفاعی اتحاد کے دائرہ عمل میں آتے ہیں۔

مشرقی بحیرۂ چین میں واقع جاپان میں سینکاکو اور چین میں ڈیائیو کے نام سے پہچانے جانے والے ان جزیروں کی ملکیت پر دونوں ممالک کا دعویٰ ہے اور یہ باعثِ تنازع رہے ہیں۔

کئی دہائیوں تک جاپان دفاعی اعتبار سے اہمیت کے حامل اور ممکنہ طور پر گیس اور تیل کے ذخائر کے حامل ان جزائر کو کنٹرول کرتا رہا ہے لیکن گذشتہ کچھ عرصے سے چین کی جانب سے ان جزیروں پر اپنی ملکیت کے دعوؤں میں شدت آئی ہے۔

ستمبر 2012 میں اس وقت کشیدگی میں اضافہ ہو گیا تھا جب چینی بحری جہازوں نے ان سمندری پانیوں میں آنا جانا شروع کر دیا جن کے بارے میں جاپان کا کہنا ہے کہ وہ جزائر کے گرد اس کی سمندری حدود کے اندر واقع ہیں۔ اس کے بعد جاپانی حکومت نے چین کو تنبیہ کی تھی۔

سب سے پہلے سنہ 1970 میں ان جزائر پر جاپان کی ملکیت پر تنازع سامنے آیا لیکن دونوں ممالک نے اس وقت طے کیا کہ آنے والی نسلوں پر یہ فیصلہ چھوڑ دیا جائے لیکن سال 2012 میں تنازع اس وقت دوبارہ شدت اختیار کر گیا جب جاپانی حکومت نے ان جزائز کو ایک نجی مالک سے خرید لیا۔ اس واقعے سے چین کو خطے میں اپنے سیاسی اثرورسوخ کو بڑھانے کا موقع مل گیا۔

رنمین یونیورسٹی کے پروفیسر شینگ یواہسک کے مطابق چین میں وزیراعظم لی کی چیانگ اقتدار میں آنے کے بعد ملک کی خارجہ پالیسی میں تبدیل لائے اور اس میں صورتحال پر جوں کا توں رہنے کی بجائے کچھ کرنے کے اقدامات شامل ہوئے۔

چینی رہنماؤں کی بے چینی کے باوجود جاپانی حکام نے کبھی بھی چین کے دعوے کا کھلے عام ذکر نہیں کیا اور دباؤ بڑھانے کے لیے چین اور جاپان نے سمندری حدود کی نگرانی میں اضافہ کر دیا۔

چین کے جنگی جہاز معمول کے مطابق اس جزائر پر پروازیں کرتے جبکہ بحری جنگی جہاز نیچے موجود ہوتے ہیں۔

تشینگو یونیورسٹی کے پروفیسر لیئو جیانگینک کے مطابق اگر جاپان اس مسئلے کے بارے میں بات کرنے سے انکار کرتا ہے تو چین اپنے خودمختاری کے حقوق کے تحت ان جزائر کے گرد اپنے نگرانی میں اضافہ کرتا ہے۔

پروفیسر شینگ یواہسک کے مطابق گذشتہ سال نومبر میں چین نے اپنی فضائی حدود کو ان متنازع جزائر تک بڑھا کر سب کو حیران کر دیا لیکن امریکہ سمیت کچھ ممالک نے چین کی نئی فضائی حدود کو مسترد کر دیا اور یہ اس کی طویل المدت دفاعی حکمت علمی کا حصہ ہے۔

چین نے ان جزائر کی نگرانی میں اضافہ کر دیا ہے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنچین نے ان جزائر کی نگرانی میں اضافہ کر دیا ہے

انھوں نے کہا کہ چین کے اس فیصلے کا مقصد متنازع علاقے میں اگر کوئی سرگرمی ہوتی ہے تو اسے فوجی کارروائی کرنے کا حق حاصل ہو۔

دوسری جانب چین کے اندر حکومت جاپان مخالف پروپیگنڈے کا حربہ استعمال کر رہی ہے تاکہ متنازع جزائر کا معاملہ اس کی خارجہ پالیسی میں نمایاں رہے اور اس میں نوجوانوں کو بھی دوسری جنگِ عظیم کے زمانے سے خراب تعلقات کی یا دلائی جاتی ہے۔

رواں سال حکومت کی ویب سائٹ پر جاپان مخالف ایک ویڈیو گیم جاری کی گئی تھی۔ اس آن لائن ویڈیو گیم میں کہا جاتا ہے کہ’ ظالم جاپانیوں کو گولی مارو۔‘

کیا چینی وزیراعظم لی کی چیانگ ان ویران جزائر کے لیے جنگ تک جائیں؟

اس پر پروفیسر چینگ نے کہا کہ’ہاں، جزائر چھوٹے ہیں لیکن چینی نقطۂ نظر سے ملکی سرزمین کا ایک انچ ٹکڑا بھی جنگ کے لیے کافی ہوتا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ یہ ایک گردشی بحران ہے اور یہ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک دونوں ممالک پر دباؤ نہیں ڈالا جاتا کہ اس کو کنٹرول کریں۔

پروفیسر لیئو کے مطابق اگر جاپان اور چین کے تعلقات بہتر ہوتے ہیں تو ان جزائر کی فوجی اہمیت کم ہو جائے گی۔

چین میں جاپان کے سفارت خانے کے باہر سکیورٹی انتظامات سخت ہیں اور 13 فٹ بلند دیواروں کی وجہ سے سفارت خانے کے اندر جھانکنا مشکل ہے۔

کئی ایسی وجوہات ہیں جس کی وجہ سے جاپان اور چین سرحدی تنازعے پر جنگ سے گریز کریں گے۔ اس میں دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے تجارتی رابطے اور جنگ کی صورت میں امریکہ کی اس میں مداخلت ہے لیکن جاپان کے سفارت خانے کے اندر اور باہر موجود سکیورٹی اہلکاروں کی بڑی تعداد سے معلوم ہوتا ہے کہ دونوں ممالک میں فوجی تصادم زیادہ دور نہیں۔