جاپان کی متنازع جزائر پر چین کو تنبیہ

جاپان کے وزیراعطم شنزوبے آبے نے چین کو خبردار کیا ہے کہ مشرقی بحیرۂ چین میں متنازع جزائر پر اترنے کی کسی بھی کوشش کا جواب طاقت سے دیا جائے گا۔
جاپانی وزیراعظم نے یہ بیان ایک ایسے وقت دیا ہے جب چین کے آٹھ سرکاری بحری جہاز ان متنازع جزائر کے قریب موجود ہیں جن پر دونوں ممالک کا دعویٰ ہے۔
اس علاقے میں ماہی گیروں کی دس کشتیوں میں جاپانی کارکنوں کا ایک قافلہ اور جاپانی سمندری محافظ بھی موجود ہیں۔
جاپان کے وزیراعظم نے پارلیمان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چین کے بحری جہازوں نے متنازع جزائر پر لنگر انداز ہونے کی کوشش کی تو انہیں طاقت کے زور پر وہاں سے نکال دیا جائے گا۔
’جب سے آبے کی حکومت قائم ہوئی ہے، ہم نے اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ اگر کسی نے ہمارے علاقےمیں دراندازی کی کوشش کی یا ایسا لگا کہ جزائر پر اترنے کی کوشش کی جا رہی ہے، تو ہم اس سے سختی سے نمٹیں گے‘۔
ٹوکیو میں بی بی سی کے نامہ نگار روپٹ وینگفیلڈ ہیز کے مطابق جاپان کے وزیراعظم شنزو آبے کا دسمبر میں عہدہ سنبھالنے کے بعد چین کو دیا جانے والا سب سے واضح پیغام ہے۔
جاپانی حکومت کے ایک اعلیٰ ترجمان کے مطابق، ’سمندری حدود میں دراندازی شدید قابل مذمت‘ ہے۔
اطلاعات کے مطابق جاپان نے احتجاج ریکارڈ کرانے کے لیے چینی سفیر کو بھی طلب کیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جاپان کے وزیراعظم نے اپنے خطاب میں یہ تنبیہ اس وقت دی جب جاپانی اراکین پارلیمان نے جنگ سے متعلق ایک متنازع یادگار پر حاضری دی۔
یہ یادگار جنگ میں ہلاک ہونے والوں اور جنگی جرائم کے بارے میں ہے اور اس پر ہمسایہ ممالک غصے کا اظہار کرتےہیں کیونکہ ان کے خیال میں یہ یادگار جاپان کے فوجی ماضی کی یاد دہانی ہے۔
دوسری جانب برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق منگل کی صبح جاپان کے 80 کارکن کشتیوں میں سوار ہو کر اس علاقے میں پہنچے ہیں جبکہ جاپانی سمندری محافط ان پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔

جاپان کے نشریاتی ادارے ’این ایچ کے‘ کا کہنا ہے کہ کشتیوں میں اراکینِ پارلیمان اور غیر ملکی میڈیا کے کارکن سوار ہیں۔
گذشتہ سال چین نے جاپان کی جانب سے مشرقی بحیرۂ چین میں واقع متنازع جزائر نجی مالکان سے خریدے جانے کے بعد جاپان کو خبردار کیا تھا کہ وہ اپنا رویہ ٹھیک کرے اور چین کی خود مختاری میں مداخلت نہ کرے۔
جاپان میں سینکاکو اور چین میں ڈیائیو کے نام سے پہچانے جانے والے ان جزیروں کی ملکیت پر دونوں ممالک دعویٰ ہے اور یہ باعثِ تنازع رہے ہیں۔
گذشتہ سال ہی دونوں ممالک کے درمیان ان جزیروں کی وجہ سے بحری جنگ شروع ہو جانے کا خدشہ پیدا ہو گیا تھا۔
دونوں ممالک کے درمیان ان جزیروں کے مسئلے پر جاری کشیدگی جاری کو دیکھتے ہوئے امریکہ نے دونوں ملکوں سے درخواست کی تھی کہ وہ اس مسئلے پر ٹھنڈے دماغ سے سوچیں۔







