القاعدہ کے ترجمان سلیمان ابوغیث’دہشتگردی کے مجرم‘

،تصویر کا ذریعہReuters
نیویارک میں ایک عدالت نےاسامہ بن لادن کے داماد اور نائن الیون کے بعد القاعدہ کے ترجمان سلیمان ابوغیث کو دہشتگردی کے مقدمے میں مجرم قرار دے دیا ہے۔
سلیمان ابو غیث کی سزا کا تعین ستمبر میں ہوگا۔ القاعدہ کےترجمان کو امریکی شہریوں کو ہلاک کرنے کی سازش کے الزام میں بقیہ زندگی جیل میں گزارنی پڑ سکتی ہے۔
نائن الیون کے واقعے کے بعد امریکی سرزمین پر القاعدہ کے کسی رہنما پر چلنے والے پہلا مقدمہ ہے جس میں عدالت کسی فیصلے پر پہنچ گئی ہے۔
کویت سے تعلق رکھنے والے اسلامی مبلغ سلیمان ابوغیث کو 2013 میں اردن سےگرفتار کر کےامریکہ لایاگیا تھا۔
جیوری نےسلیمان ابوغیث کو امریکی شہریوں کو ہلاک کرنے کی سازش کرنے، القاعدہ کی مدد کرنے اور القاعدہ کو تعاون مہیا کےجرم میں قصوروار قرار دیا ہے۔
ابوغیث سلیمان نے مقدمے کی سماعت کے دوران جیوری کو بتایا تھا کہ القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن نے نائن الیون کے واقعے کی رات اسے القاعدہ کا ترجمانی کی ذمہ داری سونپی تھی۔
سلیمان ابوغیث نے عدالت کے سامنے اپنے جرم کا اعتراف نہیں کیا تھا۔ان کے وکلا کا کہنا تھا کہ انھیں پہلے سے ان حملوں کا علم نہیں تھا۔
سلیمان ابوغیث نے عدالت کے سامنے اپنے بیان میں کہا تھا کہ 11 ستمبر سنہ 2001 کی رات اسامہ بن لادن نے ایک پہاڑی علاقے میں ملاقات کے لیے ان کے پیچھے اپنا ایک اہل کار بھیجا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سلیمان نے کہا کہ جب ان کی ملاقات ہوئی تو اسامہ بن لادن نے ان سے کہا کہ’آپ کو معلوم ہے کہ کیا ہوا؟ ہم نے یہ کام کیا ہے۔‘ اسامہ نے سلیمان سے پوچھا کہ اب کیا ہوگا۔
سلیمان نے کہا کہ اس نے پیشگوئی کرتے ہوئے اسامہ بن لادن کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ’امریکہ اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھےگا جب تک وہ آپ کو ہلاک نہ کر دے اور طالبان کی حکومت گرا نہ دے۔‘
انھوں نے کہا کہ بن لادن نے انھیں بتایا کہ’میں دنیا کو ایک پیغام دینا چاہتا ہوں اور میں چاہتا ہوں کہ وہ پیغام تمہارے ذریعے پہنچے۔‘







