کرائمیا:ریفرینڈم میں عوام کی بھرپور شرکت

،تصویر کا ذریعہAP
یوکرین کے نیم خودمختار علاقے کرائمیا میں اتوار کو عوام نے روس سے الحاق کے سوال پر ہونے والے ریفرینڈم میں بہت بڑی تعداد میں ووٹ ڈالے ہیں۔
کرائمیا کے عوام اس بات کا فیصلہ کرنے کے لیے ریفرینڈم میں حصہ لے رہے ہیں کہ آیا یہ خطہ روس سے دوبارہ الحاق کر لے یا پھر مزید خودمختاری کے ساتھ یوکرین کا ہی حصہ رہے۔
اس ریفرینڈم کو مغربی ممالک اور یوکرین نے ’غیر قانونی‘ قرار دیا ہے جبکہ روس اس کی حمایت کر رہا ہے۔
ریفرینڈم کے لیے ووٹنگ کا آغاز مقامی وقت کے مطابق صبح آٹھ بجے ہوا اور یہ رات آٹھ بجے(برطانوی وقت کے مطابق شام چھ بجے) تک جاری رہی۔
کرائمیا میں پندرہ لاکھ افراد ووٹ ڈالنے کے اہل ہیں اور ریفرینڈم کے ابتدائی نتائج آئندہ چند گھنٹوں میں آنے کی امید ہے۔
کرائمیا میں انتخابی کمیشن کے رکن میخائل ملیشیو نے کہا ہے کہ ووٹنگ کے ابتدائی چھ گھنٹے میں تقریباً ’44 اعشاریہ تین فیصد‘ ووٹ ڈال دیے گئے تھے جو ایک ریکارڈ ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
یوکرین میں روس نواز صدر وکٹر یونوکوچ کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے نسلی اعتبار سے روسی اکثریت والے کرائمیا میں روسی فوج نے زمینی کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔
یہ امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ یہاں کے لوگ یوکرین کو چھوڑنے اور روس سے الحاق کے حق میں ووٹ دیں گے۔ کرائمیا کی تاتاری آبادی نے ریفرینڈم کا بائیکاٹ کیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کرائمیا کے دارالحکومت سمفروپول اور تاتار اکثریت والے شہر بخش سرائے میں پولنگ مراکز پر بڑی تعداد میں لوگ ووٹ ڈالنے پہنچے تاہم بی بی سی نے جس تاتاری فرد سے بھی بات کی اس کا کہنا تھا کہ وہ ووٹنگ میں شریک نہیں ہوگا۔
بیلٹ پیپر پر عوام سے سوال کیا گیا ہے کہ کیا وہ کرائمیا کا روس سے الحاق چاہتے ہیں؟ ایک اور سوال میں یہ بھی دریافت کیا گیا ہے کہ آیا یوکرین میں سنہ 1992 کی آئینی شکل بحال ہونی چاہیے کیونکہ اس صورت میں خطے میں کو مزید خودمختاری مل سکتی ہے۔
اس خطے میں روسی نسل کے افراد کی اکثریت ہے اور ان میں سے بیشتر کے روس سے الحاق کے حق میں ووٹ دینے کی توقع ہے۔
کرائمیا کے روس نواز وزیراعظم سرگئی اکسیونوف نے ووٹ ڈالنے کے بعد انٹرفیکس نیوز ایجنسی سے بات کرتے ہوئے کہا ’جیسا کہ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ لوگ آزادانہ طریقے سے ووٹ دے رہے ہیں۔ پولنگ مراکز میں کوئی مسائل نہیں ہیں اور مجھے نہیں دکھائی دے رہا کہ کسی پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔‘
سواستوپول میں ایک مصروف پولنگ مرکز میں موجود ایک معمر خاتون نے ریفرینڈم پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ’میں اپنے وطن روس جانا چاہتی ہوں۔ مجھے اپنی ماں سے ملے ایک طویل عرصہ ہوگیا۔‘
تاہم ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو کرائمیا کو یوکرین کے ساتھ مگر مزید خودمختار صورت میں دیکھنا چاہتے ہیں۔ ایسے ہی ایک شخص سرہی رشتنک نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’میرے خیال میں کرائمیا کے پاس مکمل خودمختاری ہونی چاہیے تاکہ وہ اپنے مالی معاملات کی خود دیکھ بھال کر سکے۔ میں تو آزادی کا حامی ہوں۔‘







